Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
303 - 676
	فرمانِ نبوی ہے کہ شکر ربِّ رحمن کی چادر ہے۔(1)
	اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ ایوب عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میں طویل باتوں کے بدلے اپنے دوستوں سے شکر کرنے پر راضی ہوگیا ہوں اور صابرین کی تعریف میں فرمایا کہ ان کا گھر جنت میں ہے، جب وہ جنت میں جائیں گے تومیں انہیں شکر کرنا سکھلاؤں گا کیونکہ شکر بہترین بات ہے اور اس سے میں نعمتیں زیادہ کروں گا اور ان کی مدتِ دیدار طویل کرتا جاؤں گا۔
	جب جمعِ اموال کے سلسلہ میں وحی ربانی کا نزول ہوا تو حضرتِ عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے پوچھا کہ ہم کونسا مال اکٹھا کریں ؟ آپ نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنیوالا دل۔(2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں مال کے بدلے شکر گزار دل کو پسند کرنا چاہئے۔حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ کا قول ہے کہ شکر نصف ایمان ہے۔
ادائے شکر کے طریقے:
	شکر، زبان، دل اور اعضائے بدن سے ہوتا ہے۔ دل کا شکر نیکیوں کا ارادہ کرنا اور مخلوق سے اسے پوشیدہ رکھنا۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ ان کلمات کو ادا کرے جو اظہارِ شکر کے لئے مخصوص ہیں ۔ اعضائے بدن کا شکر یہ ہے کہ انہیں عبادتِ الٰہی میں مصروف رکھے اور بُرے کاموں میں استعمال نہ کرے، آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ وہ جس مسلمان کاعیب دیکھیں تو اسے ڈھانپ لیں ۔ کانوں کا شکر یہ ہے کہ وہ کسی مسلمان کی برائی سنیں تو اسے چھپائیں ، یہی ان کا شکر ہے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ وہ تقدیرِ الٰہی پر اپنی رضا کا اظہار کرے اور اسے یہی حکم دیا گیا ہے، چنانچہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے ایک شخص سے پوچھا: کیسے ہو؟ اس نے کہا: اچھا ہوں۔ آپ نے پھر پوچھا تاآنکہ تیسری مرتبہ پوچھنے پر اُس شخص نے کہا: اچھا ہوں اللہ کی حمد اور شکر کرتاہوں تب حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا کہ میں یہی کچھ تم سے سننا چاہتا تھا۔(3)
بزرگانِ سلف کا طریقۂ شکر گزاری:
	بزرگانِ سلف کا یہ طریقہ تھا کہ وہ دوسروں سے پوچھا کرتے تھے کہ کیسے ہو؟ ان کی نیت یہ ہوتی تھی کہ لوگ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کشف الخفاء ،۱/۳۲۸، الحدیث۱۱۸۰، و الدرالمنثور، سورۃ الفاتحۃ، تحت الآیۃ:۱،۱/۳۱ و قوت القلوب،۱/۳۴۳
2…ابن ماجہ ، کتا ب النکاح ، باب افضل النساء ،۲/۴۱۳، الحدیث ۱۸۵۶
 3…المعجم الاوسط للطبرانی، ۳/۲۱۶، الحدیث۴۳۷۷