ایک پتھر کی گرٍیہ وزاری:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کبھی بھی بارگاہِ رب العزت میں رونا بند نہ کرے اور اس راز کی طرف یہ روایت بھی اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے ایک نبی کا ایسے پتھر سے گزر ہوا جوخود تو چھوٹا تھا مگر اس سے پانی بہت نکل رہا تھا، اللہ تَعَالٰی کے نبی کو بہت تعجب ہوا، اللہ تَعَالٰی نے پتھر کو قوتِ گویائی عطا کردی اور اس نے کہا: جب سے میں نے اللہ تَعَالٰی کا یہ فرمان سنا ہے کہ
وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ۚۖ (1) انسان اور پتھر جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
میں برابر اللہ کے خوف سے رورہا ہوں ۔
اللہ کے نبی نے اللہ سے دعا مانگی کہ اس پتھر کو جہنم کی آگ سے بچا لے۔ اللہ نے دعا قبول فرمالی، کچھ مدت گزرنے کے بعد ان کا پھر اسی طرف جانا ہوا، دیکھا تو پتھر برابر روئے جارہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: اب کیوں روئے جارہا ہے؟ پتھر نے جواب دیا: اُس وقت خوف کی وجہ سے رورہا تھا اب خوشی اور مسرت میں رورہا ہوں ۔
انسان کا دل بھی پتھر کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سخت ہے، اس کی سختی خوف اور شکر دونوں حالتوں میں گریہ وزاری کرنے سے ختم ہوتی ہے۔
نبی اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم فرماتے ہیں : قیامت کے دن کہا جائے گا کہ حمد کرنے والے کھڑے ہوجائیں ، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہوجائے گا، ان کے لئے جھنڈا لگایا جائے گا اور وہ تمام جنت میں جائیں گے۔ پوچھا گیا: یارسول اللہ! حمد کرنے والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: جو لوگ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔(2)
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ’’جو ہر دکھ سکھ میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ‘‘۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
= ذکر البیان بان المرء۔۔۔الخ، ۲/۹، الحدیث۶۱۹ مختصرا
1…ترجمۂ کنزالایمان: جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ (پ۱، البقرۃ : ۲۴)
2…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۲۹۴و قوت القلوب ،۱/۳۵۴ والموسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الاہوال، ۶/۲۲۵، الحدیث۲۱۴وفردوس الاخبار،۱/۱۶، الحدیث۱۴
3…المعجم الکبیر،۱۲/۱۵،الحدیث۱۲۳۴۵بتغیر قلیل