Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
301 - 676
	اللہ تَعَالٰی نے شکر کو جنتیوں کا مبتدائے کلام قرار دیا ہے اور فرمایا: 
	(جنتی جنت میں داخل ہوتے ہی کہیں گے )’’حمد اور شکر ہے اللہ  کے لیے جس نے اپنا وعدہ سچا فرمایا۔‘‘(1)  اور فرمایا:
وَاٰخِرُ دَعْوٰىہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾ (2)	ان کی آخری پکار یہ ہوگی حمد ہے اللہ رب العالمین کے لیے۔
	  شکر کی فضیلت میں بہت سی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں چنانچہ فرمانِ نبوی ہے: ’’کھا کر شکر ادا کرنے والے صابر روزہ دار کی طرح ہیں ۔ ‘‘(3)
حضور کی شکر گزاری:
	حضرتِ عطاء رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی کہ آپ ہمیں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی کوئی منفرد بات سنائیں ، حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہ عَنْہا  اشکبار ہوگئیں اور فرمایا: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کون سی بات عجیب نہیں تھی، سنو! حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم ایک رات تشریف لائے اور میرے بستر یا میرے لحاف میں میرے ساتھ لیٹ گئے، یہاں تک کہ آپ کا جسمِ اطہر میرے جسم سے مَس ہونے لگا۔ تب آپ نے فرمایا: اے ابوبکر کی بیٹی! مجھے اجازت دو تاکہ میں رب کی عبادت کروں ، میں نے عرض کیا: اگرچہ میں آپ کے قرب کو بے انتہا پسند کرتی ہوں مگر آپ کی خواہش کو ترجیح دیتی ہوں لہٰذا میں آپ کو اجازت دیتی ہوں ، آپ ضرور عبادت فرمائیں ۔ 	آپ اٹھ کر پانی کے مشکیزہ کی طرف گئے اور تھوڑے سے پانی سے وضو فرما کر آپ نے نماز شروع کردی اور آپ رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سینہ پر بہنے لگے، پھر آپ رکوع میں ، سجدہ سے سر اٹھاکر بھی روتے رہے یہاں تک کہ حضرتِ بلال رَضِیَ اللہ عَنْہ نے حاضر ہو کر نمازِ فجر کے متعلق عرض کیا، میں نے پوچھا: آپ تو بخشے ہوئے ہیں ، آپ کس لئے روتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور میں کیوں نہ روؤں حالانکہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
	  اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلٰفِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبٰابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ (4) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا۔ (پ۲۴، الزمر: ۷۴)
2…ترجمۂ کنزالایمان:اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا (خوبیوں والا) اللہ جو ربّ ہے سارے جہان کا۔ (پ۱۱، یونس:۱۰)
3…ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ ، باب:۴۳ ، ۴/۲۱۹، الحدیث ۲۴۹۴
4…ترجمۂ کنزالایمان:بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے ۔ (پ۴، ال عمران:۱۹۰)…شرح مشکل الاثار للطحاوی ،۱۲/۳۳، الحدیث ۴۶۱۸ و صحیح ابن حبان ،کتاب التوبۃ، =