وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾ (1) تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
اور فرمانِ الٰہی ہے:
وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾ ((2 میرے بندوں میں تھوڑے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں ۔
اور اللہ تَعَالٰی نے شکر کرنے پر نعمتوں میں زیادتی کا تذکرہ فرمایا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ (3) اگر تم نے شکر کیا تو میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔
اور اس فرمان میں کسی کو مستثنیٰ نہیں فرمایااور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن میں اللہ تَعَالٰی نے استثناء کیا ہے:
٭…تونگری ٭…قبولیت ٭…رزق٭…بخشش اور ٭…توبہ
چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
فَسَوْفَ یُغْنِیۡکُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ (4) اگر اللہ نے چاہا تو عنقریب تمہیں مال دار کردے گا۔
اور ارشاد فرمایا ہے:
یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۲۱۲﴾ (5) وہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
اور فرمایا: ’’ اور اللہ تَعَالٰی شرک کے سوا جو گناہ چاہے بخش دے گا۔‘‘ (6)
مزیدفرمایا: ’’ اللہتعالیٰ جس کی توبہ چاہتا ہے قبول کر لیتا ہے۔‘‘ (7)
شکر اللہ تَعَالٰی کی صفات میں سے ایک صفت ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:
وَ اللہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾((8 اور اللہ تَعَالٰی شکور و حلیم ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ (پ۸،الاعراف:۱۷)
2…ترجمۂ کنزالایمان:اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے۔ (پ۲۲،سبا:۱۳)
3…ترجمۂ کنزالایمان:اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دُوں گا۔ (پ۱۳،ابراھیم:۷)
4…ترجمۂ کنزالایمان:تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے۔ (پ۱۰،التوبہ:۲۸)
5…ترجمۂ کنزالایمان: جسے چاہے بے گنتی دے ۔(پ۲،البقرۃ:۲۱۲)
6…ترجمۂ کنزالایمان:کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(پ۵،النساء:۴۸)
7…ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہجس کی چاہے توبہ قبول فرمائے۔( پ۱۰،التوبہ:۱۵)
8… ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ قدر فرمانے والا حلم والا ہے۔ (پ۲۸، التغابن:۱۷)