باب 41
شُکر
ربِّ ذوالجلال نے قرآنِ مجید میں ذکر کے ساتھ شکرکو بھی شامل فرمایا ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَذِکْرُ اللہ اَکْبَرُؕ (1) اور بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔
ارشادِ الٰہی ہے:
فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ﴿۱۵۲﴾٪ (2)
پس تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر کرو اور کفر نہ کرو۔
مزید فرمایا:
مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ ؕ (3)
اگر تم ایمان لائے اور شکر گزار بن گئے تو اللہ تَعَالٰی تمہیں عذاب نہیں دے گا۔
اور فرمایا:
وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیۡنَ﴿۱۴۵﴾ (4) ہم عنقریب شکر کرنے والوں کو اجر دیں گے۔
اور اللہ تَعَالٰی نے شیطا ن مردود کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ شیطان نے بارگاہِ ربیّ میں کہا:
لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرٰطَکَ الْمُسْتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾(5) میں انہیں بہکانے کیلئے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ جاؤں گا۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں صراطِ مستقیم سے مراد شکر کا راستہ ہے، شیطان نے اللہ تَعَالٰی کی مخلوق پر طعن کرتے ہوئے کہا تھا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ۔(پ۲۱،العنکبوت:۴۵)
2…ترجمۂ کنزالایمان: تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔(پ۲،البقرۃ:۱۵۲)
3…ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ۔ (پ۵،النساء: ۱۴۷)
4…ترجمۂ کنزالایمان:اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں۔ پ۴،اٰلِ عمران:۱۴۵)
5…ترجمۂ کنزالایمان:میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔ (پ۸،الاعراف:۱۶)