Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
297 - 676
	اے داؤد! مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں اسے جنت الفردوس میں جگہ دوں گا اور اس کے دل کو اپنے دیدار سے معمور کردوں گا یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے گا۔
مشتاقانِ خداوندی نقصان سے مامون ہیں :
 	  اللہتعالیٰ نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا کہ میری محبت کے مشتاق بندوں سے کہہ دیجئے: تمہیں اس وقت کوئی محرومی نہیں ہوگی جبکہ میں مخلوق کے سامنے حجابات ڈال دوں تو تم بے پردہ دل کی آنکھوں سے میرا دیدار کرتے رہو گے اور تمہیں کوئی ضرر نہیں ہوگا جبکہ میں نے دنیا کے بدلے تمہیں دین دے دیا اور تمہیں میری رضا کی خواستگاری کے باعث دنیا پر میری ناراضگی کوئی نقصان نہیں دے گی۔
اللہ اور دنیا کی محبت دل میں یکجا نہیں ہوسکتیں :
	حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامکی خبروں میں یہ بھی مرقوم تھا کہ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی کی کہ اگر تم میری محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو دل سے دنیا کی محبت نکال دو کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں نہیں سما سکتیں ۔ 
	اے داؤد! دنیا سے میل جول رکھو مگر محبت خا    لصتہً مجھ سے ہی رکھو، تم میرے دین کی پیروی کرو، لوگوں کے ادیان کی پیروی نہ کرو، جو چیز تم کو میری محبت کے شایاں نظر آئے اسے حاصل کرو، جس چیز میں تمہیں مشکل پیش آئے تو اس میں میری پیروی کرو، میں تمہارے احوال و حوائج کی اصلاح کردونگا، تمہارا قائد و رہبر بنوں گا سوال سے پہلے عطا کروں گا، مصائب میں تمہاری مدد کروں گا، میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں اپنے اس بندے کو بدلہ دوں گا جو طلب صادق اور پختہ ارادوں کے ساتھ میرے حضور گردن جھکا کے آتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے بے نیازی و بے اعتنائی ممکن نہیں ہے، جب تو اس مقام پر پہنچ جائے گا تو میں تم سے رسوائی اور وحشت کو دور کردوں گا، تمہارے دل میں لوگوں سے بے نیازی ڈال دوں گا کیونکہ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ جب کوئی بندہ دنیا سے تعلق توڑ کر میری ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے مطمئن ہوجاتا ہے تو میں اسے دنیا سے مالا مال کردیتا ہوں ، اعمال میں تضاد پیدا نہ کرو، لوگوں سے بے پرواہ ہوجاؤ، تم کو تمہارا ساتھی کوئی فائدہ نہیں دے گا اپنا دھیان مجھ تک محدود رکھو، میری معرفت کی کوئی