Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
296 - 676
	ایک اور محب نے کہا: میں نے تیری رفعت اور پاکی کو جان لیا اور دوستوں سے تجھ کو جو محبت ہے اس کو پہچان لیا ہے، ہم پر یہ احسان اور فرماکہ ہم کو ایسا کر دے کہ ہم تیرے سوا کسی اور چیز کا دل میں خیال تک نہ لائیں۔ 
	پھر اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ اے داؤد! ان سے کہہ دو، میں نے تمہاری باتیں سن کر انہیں قبول کرلیا ہے، تم ایک دوسرے سے الگ الگ ہوجاؤ اور خود کو دیدار کے لئے آمادہ کر لو، میں تمہارے اور اپنے درمیان حائل پردے اٹھانے و الا ہوں تاکہ تم میرے نور اور جلال کو دیکھو۔
	حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا: یا اللہ ! انہیں یہ مقام کیسے ملا ہے؟ رب نے فرمایا: حسنِ ظن، دنیا اور اس کے لوازمات سے کنارہ کشی، میرے حضور مناجات اور تنہائی میں حاضر ہونے کی وجہ سے انہیں یہ مقام ملا ہے اور اس مقام کو وہی پاتا ہے جو دنیا اور مافیہا کو چھوڑدے، اس سے بالکل تعلق نہ رکھے، دل کو میری یاد سے معمور کرلے، تمام مخلوق کو چھوڑ کر مجھے پسند کرلے تب میں اس پر رحمت نازل کرتا ہوں ۔ اسے دنیاوی علائق سے آزاد کردیتا ہوں ، اس کے اور اپنے درمیان حجابات اٹھا دیتا ہوں ، وہ مجھے ایسے دیکھتا ہے جیسے کوئی انسان اپنے سامنے کسی چیز کو دیکھتا ہے، ہر لمحہ اسے اپنی عزت و کرامت کا نظارہ دکھاتا ہوں ، اسے نورِ معرفت سے سرفراز کرتا ہوں ، جب وہ بیمار ہوجاتا ہے تو میں مہربان ماں کی طرح اسکی تیمارداری کرتا ہوں ، اگر وہ پیاسا ہوتا ہے تو میں اسے سیراب کرتا ہوں اور اسے اپنے ذکر سے غذا فراہم کرتا ہوں ۔ 
	اے داؤد! (عَلَیْہِ السَّلَام )جب میں اس سے یہ سلوک کرتا ہوں تو وہ دنیا اور اس کے علائق سے نابینا ہوجاتا ہے، اسے دنیا سے کوئی محبت نہیں رہتی، وہ میرے سوا کسی کی طرف توجہ نہیں دیتا، وہ جلدی مرنے کو پسند کرتا ہے مگر میں اس کی موت ناپسند کرتا ہوں کیونکہ ساری مخلوق میں وہی تو میری نظرِ رحمت کا مورد و مرجع ہوتا ہے، وہ میرے سوا کسی کو نہیں دیکھتا اور میں اس کے سوا کسی اور کو پسند نہیں کرتا۔
	اے داؤد! اگر تو اسے اس حالت میں دیکھے کہ اس کا جسم پُر عیب ہو، دُبلا ہو، اس کے اعضاء ٹوٹ چ کے ہوں اور اس کا دل نظام سے بے ربط ہوچکا ہو تو جب میں فرشتوں میں اس پر فخر کرتا ہوں اور آسمان والوں میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں تو وہ یہ سنکر اپنی عبادت اور خوف کو زیادہ کردیتا ہے۔