Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
294 - 676
 فرمایا: میرے مشتاق وہ ہیں جن کے دلوں کو میں نے ہر کدورت سے پاک کردیا ہے، انہیں منہیات سے متنبہ کردیا ہے، وہ اپنے دل کے گوشوں سے مجھے دیکھتے ہیں اور میری رحمت کے امیدوار رہتے ہیں ، میں ان کے دلوں کو دستِ رحمت میں لے کر آسمانوں پر رکھتا ہوں اور اپنے مقرب فرشتوں کو بلاتا ہوں ، فرشتے اکٹھے ہو کر مجھے سجدہ کرتے ہیں اور میں فرماتا ہوں : میں نے سجد ہ کرنے کے لئے تمہیں نہیں بلایا بلکہ تمہیں اپنے مشتاق ہائے دیدار کے دل دکھانے کے لئے بلایا ہے، یہ اہلِ شوق قابلِ فخر ہیں ، ان کے دل آسمان پر ایسے چمکتے ہیں جیسے زمین پر سورج چمکتا ہے۔
	اے داؤد! میں نے مشتاقوں کے دل اپنی رضا سے، ان کا عیش اپنے نور سے پیدا کیا ہے، میں نے انہیں اپنا ہم راز بنایا ہے، ان کے وجود دنیا میں میری نگاہِ رحمت کا مرجع ہیں اور میں نے ان کے دلوں میں ایک راستہ بنایا ہے جس سے وہ میرا دیدار کرتے ہیں اور ان کا شوق فزوں سے فزوں تر ہوتا رہتا ہے۔
	حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: یا اللہ! مجھے اپنے کسی مشتاق کا دیدار کرا دے، رب تعالیٰ نے فرمایا: داؤد لبنان کے پہاڑ پر جاؤ، وہاں میرے چودہ محب رہتے ہیں جن میں جوان اور بوڑھے سبھی شامل ہیں انہیں میرا سلام کہو اور کہنا اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: تم میرے دوست اور محبوب ہو وہ تمہاری خوشی میں خوش ہوتا ہے اور تمہیں بہت محبوب رکھتا ہے اور فرماتا ہے: تم مجھ سے کوئی حاجت کیوں نہیں بیان کرتے؟ حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامان سے ملاقات کے لئے روانہ ہوئے اور انہیں ایک چشمہ کے قریب پایا وہ اللہ تَعَالٰی کی عظمت و جلال پر غور و فکر کررہے تھے۔
	جب انہوں نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا تو وہ ادھر ادھر چھپ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں اور تمہارے پاس اللہ کا پیغام پہنچانے آیا ہوں تو وہ نظریں جھکائے سراپا اشتیاق بنے اُس کا فرمان سننے کے لئے واپس آگئے، حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں ، اللہ تَعَالٰی تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: تم مجھ سے حاجت کیوں نہیں طلب کرتے مجھے اپنی ضرورتوں کے لئے کیوں نہیں پکارتے تاکہ میں تمہارا کلام سنوں تم میرے دوست اور محبوب ہو، میں تمہاری خوشی سے خوش ہوتا ہوں ، تمہاری محبت کو بہتر سمجھتا ہوں اور میں ہر وقت مہربان، شفیق ماں کی نگاہ سے تم کو دیکھتا ہوں ۔ 
	جب انہوں نے یہ سنا تو ان کے رخساروں پر آنسو بہنے لگے، ان کا شیخ پکار اٹھا: اے رب! تو پاک ہے، تو پاک