Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
293 - 676
ایک صدیق پر اِلہام کا نزول اور صدیقین کی صفات:
	ایک مرد صالح سے مروی ہے کہ حضرتِ رب العزت نے ایک صدیق پر اِلہام فرمایا کہ میرے بندوں میں کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو مجھے محبوب رکھتے ہیں ، میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، وہ میرے مشتاقِ دیدار ہیں ، میں ان کا مشتاقِ دیدار ہوں ، وہ مجھے یاد کرتے ہیں ، میں انہیں یاد فرماتا ہوں ، وہ میری طرف دیکھتے ہیں اور میں ان پرنگاہِ رحمت ڈالتا ہوں ، اگر تو ان کے راستہ پر چلے گا تو میں تجھے محبوب بناؤں گا اوراگر تو نے ان کا راستہ نہ اپنایا تو میں تجھ سے دشمنی رکھوں گا۔ اس صدیق نے پوچھا: یا اللہ! ان کی علامتیں کیا ہیں ؟ تو ربِّ ذوالجلال نے فرمایا:’’ وہ دن ڈھلنے کا ایسا خیال رکھتے ہیں جیسے مہربان چرواہا اپنی بکریوں کا خیال رکھتا ہے وہ غروبِ شمس کے ایسے مشتاق ہوتے ہیں جیسے سورج ڈوبنے کے بعد پرندہ اپنے آشیانے میں پہنچنے کا مشتاق ہوتا ہے۔‘‘
	جب رات بھیگ جاتی ہے، تاریکی بڑھ جاتی ہے، بستر بچھادیئے جاتے ہیں ، لوگ اٹھ جاتے ہیں اور دوست دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہیں تو وہ میرے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ، میرے لئے چہروں کا فرش بچھا دیتے ہیں (سجدے کرتے ہیں ) میرے کلام میں مجھ سے ہم کلام ہوتے ہیں ، میرے انعامات کی آرزو کرتے ہیں ، ان کی ساری رات گریہ وزاری کرتے، رحمت کی امید رکھتے اور خوفِ عذاب سے ڈرتے ہوئے، قیام و قعود، رکوع و سجود میں گزر جاتی ہے، مجھے اپنی نظرِ رحمت کی قسم! وہ میری وجہ سے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتے اور مجھے اپنی سماعت کی قسم! وہ میری محبت کا شکوہ نہیں کرتے، میں پہلے پہل انہیں تین چیزیں عطا کرتا ہوں :ان کے دلوں میں اپنا نور ڈال دیتا ہوں جس سے وہ میری خبر پالیتے ہیں جیسے میں ان کی خبر پاتا ہوں ۔ دوسرے یہ کہ اگر زمین و آسمان اپنی تمام تر اشیاء کے ساتھ ان کے میزانِ عمل میں رکھ دئیے جائیں تب بھی ان کے پلّے ہل کے ہوں گے اور میں ان کی نیکیاں بھاری کردوں گا۔ تیسرے یہ کہ میں اپنی رحمت کو اس کی طرف متوجہ کردیتا ہوں اور وہ اس بات کو جان لیتا ہے کہ وہ جو کچھ مانگے گا میں اسے دے دونگا۔
مشتاقانِ خداوندی کی صفات:
	اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی کی کہ اے داؤد! تم جنت کا تذکرہ کرتے ہو مگر مجھ سے میرے مشتاقوں میں شمولیت کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے عرض کی: یا اللہ! تیرے مشتاق کون ہیں ؟ ربِّ ذوالجلال نے