Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
292 - 676
	ہر عقلمند بخوبی جانتا ہے کہ اِطاعت و فرمانبرداری کے لائق کون ہے! وہ اسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اسی کے دامن رحمت میں پناہ ڈھونڈتا ہے، جب اس سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کرتا ہے، اس کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا اور اس کے اِنعامات کا شکر ادا کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تَعَالٰی کے دوستوں میں شمار ہونے لگتا ہے، جب اسے موت آتی ہے تو وہ دیدارِ الٰہی کا مشتاق اور رب بے نیاز اس سے ملاقات کا خواہشمند ہوتا ہے۔
	 حضرتِ ابو الدرداء رَضِیَ اللہ عَنْہ نے حضرتِ کعب رَضِیَ اللہ عَنْہ سے کہا: مجھے تورات کی ایک خاص آیت سناؤ! انہوں نے جواب میں یہ آیت سنائی؛رب فرماتا ہے: نیکوں کو میرے دیدار کا شوق ہے اور میں ان کی ملاقات کا ان سے بھی زیادہ خواہشمند ہوں ۔ حضرتِ کعب نے کہا: اس آیت کے حاشیہ میں لکھا ہوا تھا: جس نے مجھے تلاش کیا، پالیا اور جس نے کسی اور کو ڈھونڈھا وہ میرے دیدار سے محروم رہا۔ حضرتِ ابو الدرداء فرمانے لگے: بخدا میں نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے بھی ایسے ہی سنا ہے۔
دنیا والوں کو حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی زبانی پیغامِ الٰہی:
	حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف اللہ تَعَالٰی نے وحی فرمائی:اے داؤد! میرا یہ پیغام دنیا والوں تک پہنچا دو، میں اس کا دوست ہوں جو مجھے دوست رکھتا ہے، اپنی مجلس میں آنے والوں کا ہم مجلس ہوں ، جو میرے ذکر سے الفت رکھتا ہے میں اس سے الفت رکھتا ہوں ، جو مجھ سے دوستی رکھتا ہے میں اس سے دوستی رکھتا ہوں ، جو مجھے پسند کرتا ہے میں اسے پسند کرتا ہوں ، جو میرا فرمانبردار بن جاتا ہے میں اس کا کہنا قبول کرتا ہوں ، جو شخص بھی دل کی گہرائیوں سے مجھے محبوب جانتا ہے میں اسے اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور اس سے بے مثال محبت کرتا ہوں ، جس نے حقیقتاً مجھے طلب کیا، اس نے مجھے پالیا اور جس نے میرے غیر کو طلب کیا وہ مجھ سے محروم رہا، پس اے دنیا والو! تم کب تک دنیا کے دھوکہ میں رہو گے؟ میری کرامت، دوستی اور مجلس کی طرف آؤ !اور مجھ سے اُنس رکھو، میں تجھے اپنی محبت سے مالا مال کردوں گا کیونکہ میں نے اپنے دوستوں کا خمیر ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ نجی اللہ اور محمد صفی اللہ (علیہم السلام) کے خمیر سے بنایا ہے، ان کی روحیں اپنے نور سے اور ان کی نعمتیں اپنے جمال سے پیدا کی ہیں ۔