Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
291 - 676
باب40
فضیلتِ اِطاعت
	اِطاعت ِ خداوندی کے معنی تمام نیکیوں کو پالینا ہے، اللہتعالیٰ نے قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کواسی بات کی ترغیب دی ہے اور اسی لئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں کو نفس کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تَعَالٰی کی معرفت کی روشنیوں میں لائیں اوروہ اس جنت سے نفع اندوز ہوں جو نیکوں کے لئے تیار کی گئی ہے کہ اس جیسی جنت کسی آنکھ نے نہیں دیکھی، کسی کان نے نہیں سنی اور کسی دل میں اس کا تصور بھی نہیں گزرا، لوگوں کو فضول نہیں پیدا کیا گیا بلکہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ بروں کو ان کی برائی کی سزا ملے اور نیکوں کو ان کی نیکیوں کا اجر عطا ہو۔
	اللہ تَعَالٰی عبادت سے بے نیاز ہے، لوگوں کی برائیاں نہ اسے نقصان پہنچاتی ہیں اورنہ ہی اس کے کمال میں کوئی نقص آتا ہے۔ اگر مخلوق اللہ تَعَالٰی کی عبادت نہ کرے تب بھی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں ایسے فرشتے ہیں جو صبح و شام رب کی حمد کرتے رہتے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔
	جس شخص نے نیکی کی، اس نے اپنے لئے کی اور جس نے گناہ کیا اس کا عذاب اسی کی گردن پر ہوگا، اللہ تَعَالٰی غنی ہے اورتم فقیر ہو۔
	حیران کن بات تو یہ ہے کہ ہم اگر کوئی غلام خریدتے ہیں تواس بات کو پسند کر تے ہیں کہ وہ ہر وقت خدمت مامورہ پوری تندہی سے سرانجام دیتا رہے، ہمارا مطیع و فرمانبردار رہے حالانکہ اسے معمولی قیمت سے خریدا گیا ہے، اس کی ایک غلطی پر اسے دشمن سمجھ لیتے ہیں ، بے انتہا غصہ کرتے ہیں ، اس کا کھانا بند کردیتے ہیں ، اسے آنکھوں سے دور کردیتے ہیں یا پھر اسے بیچ دیتے ہیں ، لیکن ہم اس مالکِ حقیقی کی اِطاعت نہیں کرتے جس نے ہمیں بہترین صورت میں پیدا کیا ہے، ہم بارش کے قطروں کے برابر گناہ کرتے ہیں مگر وہ اپنی نعمتیں ہم سے نہیں روکتا، اپنی رحمت کی نصرت نہیں روکتا جس کے بغیر ہمارے لئے ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوجائے ، اگر وہ چاہے تو ہمیں ایک گناہ کے بدلے پکڑنے پر قادر ہے مگر وہ ہمیں مہلت دیتا ہے تاکہ ہم توبہ کریں اور وہ توبہ قبول فرما کر ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمارے عیوب ڈھانپ لے۔