Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
290 - 676
	اے ناتواں ! ان ہولناکیوں پر غور کر اور سمجھ لے کہ اللہ تَعَالٰی نے آگ کو اس کی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس میں رہنے والوں کو پیدا کردیا ہے جو نہ کم ہوں گے نہ زیادہ، اللہ تَعَالٰی ان کا فیصلہ فرماچکا ہے۔ 
	فرمانِ الٰہی ہے: 
	’’اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرایئے جب کام مکمل کیا جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔‘‘(1)
	اپنی جان کی قسم! اس میں قیامت کی طرف اشارہ ہے بلکہ یومِ ازل مراد ہے لیکن چونکہ ان فیصلوں کا اظہار قیامت کے دن ہو گا اس لئے اسے قیامت سے منسوب کیا گیا ہے۔
	تجھ پر تعجب ہے کہ اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ جانے میرے حق میں کیا فیصلہ ہوچکا ہے تو دنیاوی برائیوں اور لہو و لعب میں مشغول ہے اور غفلت میں پڑا ہے، اگر تیری تمنا یہ ہے کہ کاش تجھے اپنے ٹھکانے اورانجام کا پتہ چل جائے تو اسکی چند علامتیں ہیں ، ان پر نظر کراور پھر اپنی اُمیدیں قائم رکھ۔
	 فرمانِ الٰہی ہے:
	پہلے تو اپنے اَحوال اور اَعمال کو دیکھ، اگر تو ہر اس عمل پر کاربند ہے جس کے لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے دنیا میں بھیجا ہے اور تجھے نیکیوں سے محبت ہے تو سمجھ لے کہ تو جہنم سے دور ہے اور اگر تو نیکی کا ارادہ کرتا ہے مگر ایسے موانع حائل ہوجاتے ہیں کہ تو نیکی نہیں کرپاتا لیکن جب برائی کاا رادہ کرتا ہے تو اسے آسانی سے کرلیتا ہے تو سمجھ لے تیرے لئے فیصلہ ہوچکا ہے کیونکہ جیسے بارش کا وجود سبزے کی نشو و نما اور دھواں آگ پر دلالت کرتا ہے تو اسی طرح یہ فعل بھی برے انجام کا پتہ دیتا ہے۔
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿۱۳﴾ۚوَّ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ  ﴿۱۴﴾ۚۖ (2)		نیک نعمتوں اور بدکار جہنم میں ہوں گے۔
	اپنے اَعمال کو ان آیات کے آئینہ میں دیکھ! تب تو اپنا مقام پہچان لے گا۔ واللہ اعلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں مانتے۔ ( پ۱۶، مریم : ۳۹)
2…ترجمۂکنزالایمان:بے شک نکو کار ضرور چین میں ہیں اور بے شک بدکار ضرور دوزخ میںہیں۔ (پ۳۰،الانفطار:۱۳،۱۴)