ہائے افسوس! ان کی زندگی گناہوں میں تباہ ہوگئی، مصائب میں گھر گئے، دنیاوی نعمتوں اور لذتوں کا کوئی حصہ ان کے لئے باقی نہ رہا، اگر وہ باوجود ان مصائب کے جنت کی نعمتوں کا نظارہ نہ کرتے تو ان کی حسرت دوچند نہ ہوتی مگر انہیں جنت دکھائی جائے گی، چنانچہ
فرمانِ نبوی ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لایا جائیگا جب وہ جنت کے قریب پہنچیں گے، اس کی خوشبو سونگھیں گے، جنتیوں کے محلات کو دیکھیں گے، تب اللہ تَعَالٰی فرمائے گا: انہیں واپس لے جاؤ، ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ہے، وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے کہ اول و آخر اس کی مثال نہیں ملے گی اور کہیں گے اے رب! اگر جنت اور اس میں رہنے والوں کے لئے جو انعامات تیار ہیں وہ دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں بھیج دیتا تو ہمیں کچھ آسانی رہتی، رب تعالیٰ فرمائے گا:یہ تمہارے ساتھ اس لئے کیا گیا ہے کہ جب تم میری بارگاہ میں آتے تو اکڑ کر آتے لیکن جب تم لوگوں سے ملتے تو جھک جھک کر ملتے تھے،لوگوں کو اپنے دلوں میں چھپی باتوں سے بے خبر رکھتے اور ریاکاری سے کام لیتے تھے۔ تم لوگوں سے ڈرتے تھے مگر مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کو بڑا سمجھتے تھے اور مجھے نہیں ، تم ذاتی غرض کے لئے لوگوں سے تو تعلقات ختم کر دیتے تھے مگر میرے لئے نہیں ، آج میں تمہیں دائمی نعمتوں سے محروم کر کے دردناک عذاب کا مزا چکھاؤں گا۔(1)
حضرت احمد بن حرب رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: ہم دھوپ پر سائے کو ترجیح دیتے ہیں مگر جہنم پر جنت کو ترجیح نہیں دیتے۔
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا ارشاد ہے کہ کتنے تندرست جسم ، خوبصورت چہرے اور شیریں کلام کرنے والی زبانیں ، کل جہنم کے طبقات میں پڑے چیخ رہے ہوں گے۔
حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہِ الٰہی میں التجا:
حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: الٰہی! جب میں سورج کی تپش پر صبر نہیں کرسکتا تو تیرے جہنم کی آگ پر کیسے صبر کروں گا؟ میں کہ تیری رحمت کی آواز سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا، تیرے عذاب کی آواز کیسے سنوں گا؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط للطبرانی، ۴/۱۳۵، الحدیث ۵۴۷۸