Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
288 - 676
یہ ان کے لیے انتہائی درجے کا عذاب ہوگا اور پھر وہ کبھی باری تعالیٰ سے کلام نہیں کرسکیں گے۔
	حضرت مالک بن اَنَسرَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے مروی ہے؛ حضرتِ زید بن اسلم نے اس فرمانِ الٰہی:
سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾ (1)
برابر ہے ہمارے لیے کہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر کریں ہمارے لیے بھاگنے کی جگہ نہیں ۔ 
کی تشریح میں فرمایا: وہ سوسال صبر کریں گے، پھر سو سال آہ و فغاں کریں گے، پھر سو سال صبر کرنے کے بعد کہیں گے: ہمارے لئیس صبر کرنا اور آہ و بکا کرنا دونوں برابر ہیں ۔ 
	فرمانِ نبوی ہے کہ قیامت کے دن موت کو ایک موٹے مینڈھے کی شکل میں لاکر جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کیا جائے گا اور کہا جائے گا: اے جنت والو! اب موت کا خوف کئے بغیر ہمیشہ کے لئے جنت میں رہو اور جہنم والوں سے کہا جائے گا کہ تمہیں موت نہیں آئے گی، ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہو۔(2)
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک آدمی جہنم سے ہزار سال بعد نکلے گا، کاش وہ حسن ہو۔
	کسی نے حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کوایک گوشے میں روتا دیکھ کر پوچھا کیوں رورہے ہو؟ آپ نے فرمایا: کہیں بے نیاز پروردگار مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔
	یہ مجموعی طور پر عذابِ جہنم کی قسمیں تھیں ، وہاں کے غم، تکلیفوں اور حسرتوں کی تفصیل بہت طویل ہے، ان کے لئے بدترین عذاب یہ ہوگا کہ وہ جنت کی نعمتیں ، رضائے خداوندی اور دیدارِ الٰہی سے محروم ہوں گے کیونکہ دنیا میں کھوٹے س کے خریدے اور پھر ان کے بدلے چند روزہ زندگی میں انتہائی رسوا کن نفسانی خواہشات خرید لیں ، وہ اپنے ضائع شدہ اعمال اور برباد کردہ ایام پر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے: ہائے افسوس! ہم نے اپنے جسموں کو رب کی نافرمانی میں تباہ کردیا، ہم نے زندگی کے مختصر ایام میں اپنے نفس کو صبر پر کیوں نہ مجبور کیا، اگر ہم ان گزرنے والے دنوں میں صبر کرلیتے تو رب العالمین کے جوارِ رحمت میں جگہ پاتے، جنت اور رضائے الٰہی حاصل کرلیتے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں۔ (پ۱۳، ابراھیم :۲۱)
 2…مسلم ،کتاب الجنۃ۔۔۔الخ ، باب النارید خلھا الجبارون۔۔۔الخ ، ص ۱۵۲۶، الحدیث۴۰۔ (۲۸۴۹)