فرمانِ نبوی ہے کہ کافر جہنم میں اپنی زبان گھسیٹ رہا ہوگا اور لوگ اس کی زبان کو روندتے ہوئے جائیں گے۔ (1)
ان کی ان عظیم جسامتوں کے باوجود آگ انہیں جلاتی رہے گی اور کئی کئی مرتبہ ان کے چمڑے اور گوشت کو تبدیل کیا جائے گاحضرت حسن رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ اس ارشادِ الٰہی کے بارے میں کہ
کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا(2)
جب بھی ان کے چمڑے گل جائیں گے ہم اور چمڑے بدل دیں گے۔
کہتے ہیں کہ آگ ان کے اجسام کو دن میں ستر ہزار مرتبہ جلائے گی مگرجونہی ان کے چمڑے جلیں گے، اللہ تَعَالٰی دوبارہ ان کے اجسام کو مکمل کردے گا۔
پھر دوزخیوں کی گریہ وزاری، فریاد وفغاں اور ہلاکت و موت کی التجاؤں کے متعلق غور کرو جو ابتدائے قیامت ہی سے ان کا مقدر بن جائے گی۔
فرمانِ نبوی ہے: قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار مہاریں ڈال کر لایا جائے گا اور ہر مہار کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔(3)
حضرتِ اَنَسرَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جہنمیوں پر گریہ وزاری بھیجی جائے گی، وہ روتے رہیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے، پھر وہ خون کے آنسو روئیں گے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر گڑھے پڑجائیں گے، اگر ان میں کشتیاں چلائی جائیں تو وہ بھی رواں ہوجائیں ۔ (4)
انہیں گریہ وزاری، آہ، فریاد اور موت کی دعا مانگنے کی اجازت ہوگی جس سے وہ دل کا بوجھ ہلکا کریں گے مگر بعد میں انہیں اس سے بھی منع کردیا جائے گا۔
دوزخیوں کی التجائیں رد کردی جائیں گی:
حضرتِ محمد بن کعب رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہسے مروی ہے کہ اللہ تَعَالٰی دوزخیوں کی پانچ باتوں میں سے چار کا جواب دے گا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، التاسع من شعب الإیمان، باب فی أن دار المؤمنین۔۔۔الخ ،۱/۳۵۳، الحدیث۳۹۴
2…ترجمۂکنزالایمان:جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے۔(پ۵، النسا:۵۶)
3…مسلم کتاب الجنۃ۔۔۔الخ ، باب فی شدۃ حرنار جہنم۔۔۔الخ ، ص۱۵۲۳، الحدیث ۲۹۔ (۲۸۴۲)
4…ابن ماجہ،کتاب الزہد، باب صفۃ النار،۴/۵۳۱، الحدیث۴۳۲۴