Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
285 - 676
	اب دوزخ کے سانپ بچھو، ان کی جسامت، تیز زہر اور دوزخیوں کی رسوائی پر غور کرو، سانپ، بچھو جو ان پر مسلط کئے جائیں گے، ان کے سخت دشمن ہونگے، ایک لمحہ بھی کاٹنے اور ڈنک مارنے سے باز نہیں رہیں گے۔
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تَعَالٰی نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا جس کی پیشانی پر دوسیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس کے گلے سے لپٹ کر اس کے جبڑوں کو پکڑلے گا اور کہے گا: میں تیرا مال اور تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہ ُ مِنۡ فَضْلِہٖ (1)
اور جو ہمارے دیئے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے اچھا ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے: جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے (موٹے اور لمبے) سانپ ہونگے جب وہ پھنکاریں گے تو ان کی گرمی چالیس برس کے فاصلے سے محسوس کی جائے گی اور ہیبت ناک بچھو ہوں گے جن کی سانس کی گرمی چالیس برس کے فاصلے سے محسوس کی جائے گی (2) سانپ اور بچھو اس آدمی پر مسلط ہوں گے جس پر دنیا میں بخل، بدخلقی اور لوگوں کو ستانے کاظلم عائد ہوگا اور جس میں یہ برائیاں نہیں پائی جاتیں ، اسے کوئی تکلیف نہیں دی جائیگی۔
	اس کے بعد دوزخیوں کے طویل و عریض جسموں پر غور کرو، اللہ تَعَالٰی ان کے اجسام کے طول و عرض میں اضافہ کر دے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہو لہٰذا وہ دوزخی متواتر اپنے اجسام پر جہنم کی گرمی اور سانپوں ، بچھوؤں کے ڈنک جھیلتا رہے گا۔
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جہنم میں کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر اور اس کا نچلا ہونٹ سینہ پر پڑا ہوگا اور اوپر والا ہونٹ اس قدر اوپر اٹھا ہوا ہوگا جس سے سارا چہرہ چھپا ہوگا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترجمۂکنزالایمان:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ۔(پ۴، اٰلِ عمران:۱۸۰) …بخاری، کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، ۱/۴۷۴، الحدیث ۱۴۰۳
2…مسند احمد، مسند الشامیین، حدیث عبداللہ بن الحارث۔۔۔الخ ۶/۲۱۷،الحدیث۱۷۷۲۹
3…ترمذی،کتاب صفۃ جہنم، باب ماجاء فی اعظم اھل النار،۴/۲۶۱،الحدیث۲۵۸۸، وص۲۶۴،الحدیث۲۵۹۶ ماخوذا