Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
284 - 676
مالک جواب دے گا: تمہیں مرنا نہیں ہے، ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔(1)
	حضرتِ اعمش رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: ان کی دُعا اور مالک کے جواب کے درمیان ایک ہزار برس گزر جائیں گے۔ پھر کہیں گے کہ رب سے بڑھ کر کوئی مہربان نہیں ہے لہٰذا اپنے رب کے حضور میں عرض کریں گے: اے رب! ہم پر بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے اب ہمیں نکال، اگر ہم پھر وہی کام کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ انہیں جواب ملے گا: دور ہوجاؤ اسی جہنم میں رہو اور خاموش ہوجاؤ! حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: اس وقت انہیں ہلاکت سختی اور ندامت گھیر لے گی اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے نااُمید ہوجائیں گے۔(2)
	حضرتِ ابوامامہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس فرمانِ الٰہی: 
	اور وہ پیپ کے پانی سے سیراب کیا جائے گا۔وہ اس کا گھونٹ گھونٹ لے گا مگر گلے سے نہیں اترے گا۔(3)
کی تشریح میں فرمایا:جب یہ پانی اس کی نظروں کے سامنے آئے گا تو وہ اسے برا سمجھے گا، جب ہونٹوں کے قریب آئے گا تو چہروں کو  جھلسا دے گا اور سرکی کھال بالوں سمیت جلادے گا، جب وہ اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کاٹ کر باہر نکال دے گا، فرمانِ الٰہی ہے:
	’’اور ان کو گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ دے گا۔‘‘(4)
	مزید فرمایا: ’’اور جب وہ پانی طلب کریں گے تو انہیں پیپ جیسا پانی دیا جائے گاجو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘(5)
 یہ بھوک کے وقت ان کا کھانا پینا ہوگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترمذی ،کتاب صفۃ جہنم ، باب ماجاء فی صفۃ طعام اھل النار، ۴/۲۶۴،الحدیث۲۵۹۵…جہنم پر مقرر فرشتے کا نام  مَالک (عَلَیْہِ السَّلَام )ہے۔علمیہ 
2…ترمذی ،کتاب صفۃ جہنم ، باب ماجاء فی صفۃ طعام اھل النار،۴/۲۶۴،الحدیث۲۵۹۵ 
3…ترجمۂکنزالایمان:اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی۔ ( پ۱۳، ابراھیم:۱۶،۱۷) 
4…ترجمۂکنزالایمان:اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ۔ (پ۲۶، محمد:۱۵) 
5…ترجمۂکنزالایمان: اور اگر پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے (پگھلے) ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون (جلا) دے گا۔  (پ۱۵، الکھف:۲۹)…ترمذی ،کتاب صفۃ جہنم، باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار،۴/۲۶۲، الحدیث ۲۵۹۲