Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
282 - 676
 ایک ڈول دنیا میں پھینک دیا جائے تو اس کی بدبو سے تمام مخلوق کا دم گھٹ جائے۔ (1)
	جب دوزخی پیاس کی شدت محسوس کریں گے تو انہیں یہی پینے کو دی جائے گی وہ پیپ کا پانی حلق میں ڈالیں گے، ایک گھونٹ لیں گے مگر اسے نگل نہیں سکیں گے اور موت ہر جانب سے ان پر حملہ کریگی مگر وہ نہیں مریں گے۔ اگر وہ پانی کی تمنا کریں گے تو انہیں تانبے کی رنگت جیسا پانی دیا جائے گا جو چہروں کو جلادیتا ہے ، یہ بہت برا مشروب ہے اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔
دوزخیوں کی غذا:
	ان کے طعام کے متعلق سوچو! وہ زَقُّوم (تھوہر) ہوگا جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
	’’پھر تم اے جھٹلانے والے گمراہو! زقوم کا درخت کھانے والے ہو،اس سے پیٹ بھرنے والے ہو پھر اس پر گرم پانی پینے والے ہو اور تشنہ لب اونٹوں کی طرح پینے والے ہو۔‘‘ (2)
	مزید فرمایا:
	’’وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی گہرائی سے نکلتا ہے اس کا سر سانپ کے سروں کی مانند ہے پھر ان کے لیے اس میں گرم پانی کی ملاوٹ ہے پھر ان کا دوزخ کی طرف جانا ہے۔‘‘ (3)(وہ ان مراحل سے گزر کر جہنم میں جائیں گے۔)
	ایک اور ارشادِ ربانی ہے: 
	’’وہ جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے کھولتے ہوئے چشمہ سے پلائے جائیں گے ۔‘‘(4)
	اور فرمایا: 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ترمذی ، کتاب صفۃ جہنم، باب ماجاء فی صفۃ شراب۔۔۔الخ ۴/۲۶۳، الحدیث ۲۵۹۳
2…ترجمۂکنزالایمان:پھر بے شک تم اے گمراہو، جھٹلانے والو! ضرور تھوہڑ کے پیڑ میں سے کھاؤ گے پھر اس سے پیٹ بھرو گے پھراس پر کھولتا پانی پیو گے پھر ایسا پیوگے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں۔ (پ۲۷، الواقعۃ :۵۱ ۔ ۵۵)
3…ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے اسکا شگوفہ جیسے دیووں کے سر پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے پھر بے شک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے پھر ان کی بازگشت (واپسی) ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے۔ ( پ۲۳، الصّٰفٰت:۶۴ تا ۶۸)
4…ترجمۂکنزالایمان:جائیں بھڑکتی آگ میں نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں۔(پ۳۰، الغاشیۃ:۴،۵)