ہزار سال کے بعد جہنم سرخ ہوگیا پھر ہزار سال تک آگ بھڑکائی گئی جس سے وہ سفید ہوگیا، جب مزیدہز ارسال آگ بھڑکائی گئی تو وہ بالکل سیاہ اورتاریک ترین ہوگیا۔(1)
فرمانِ نبوی ہے: جہنم نے ربِ عظیم سے شکایت کی کہ میرے بعض حصے بعض حصوں کی تپش سے فنا ہورہے ہیں تو اللہ تَعَالٰی نے اسے صرف دو سانسوں کی اجازت دیدی، ایک گرمی میں اورایک سردی میں ، گرمیوں میں گرمی کی شدت اس کے گرم سانس سے اورسردی کی شدت اس کے سرد سانس سے ہوتی ہے۔(2)
حضرتِ اَنَسرَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: قیامت کے دن مالدار ترین کافروں کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں غوطہ دے کر پوچھا جائے گا کہ تونے دنیا میں کوئی نعمت پائی تھی؟ وہ کہے گا: بالکل نہیں ، پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں سب سے زیادہ دکھ اٹھائے ہوں گے، اسے جنت میں لیجا کر باہر نکالا جائے گا اور پوچھاجائیگا: تو نے کبھی کوئی دکھ پایا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں ۔ (3)
حضرتِ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہسے مروی ہے کہ اگر مسجد میں ایک ہزار یا اس سے بھی زیادہ لوگ موجود ہوں اور وہاں جہنمی شخص سانس لے تووہ سب کے سب مر جائیں گے۔
بعض علماء نے اس فرمانِ الٰہی کی کہ ’ ’آگ ان کے منہ کو جھلس دے گی۔‘‘(4) تشریح میں لکھا ہے کہ آگ کی ایک ہی لپیٹ سے ان کی ہڈیوں کا گوشت نیچے گر جائے گا۔
اب اس پیپ کے متعلق غور کرو جو انتہائی بدبو دار بن کر اُن کے جسموں سے اس قدر بہے گی کہ وہ اس میں غرق ہوجائیں گے، قرآنِ کریم میں اسی کو غسّاق کا نام دیا گیا ہے۔
حضرتِ ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر دوزخیوں کی پیپ کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب صفۃ جہنم ، باب ۸، ۴/۲۶۶، الحدیث۲۶۰۰
2…بخاری ، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار۔۔۔الخ،۲/۳۹۵، الحدیث۳۲۶۰ و ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، ۴/۵۲۹، الحدیث ۴۳۲۰ بالتقدیم و التاخیر
3…ابن ماجہ ، کتاب الزھد، باب صفۃ النار، ۴/۵۲۹، الحدیث۴۳۱۹
4…ترجمۂکنزالایمان: ان کے منہ پر آگ لپٹ مارے گی۔(پ۱۸،المؤمنون:۱۰۴)