Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
280 - 676
 کنارے سے پتھر لڑھکایا گیا تھا جو اَب اس کی گہرائی میں جاپہنچا ہے(1) (یہ اس کی آواز تھی)۔
درجاتِ جہنم:
	اب جہنم کے درجات پر غور کیجئے! بے شک آخرت اپنے طبقات اور خصائص کے اعتبار سے بہت عظیم ہے، جیسے دنیا میں لوگوں کے مختلف درجات ہیں اسی طرح جہنم میں مختلف درجات ہوں گے جو گناہوں کا عادی اور سخت نافرمان ہوگا وہ آگ میں غرق ہوگا اور معمولی طور پر گناہ کرنے والا ایک محدود حد تک جلے گا اسی طرح آگ بھی گنہگار کے گناہوں کے مطابق عذاب دے گی کیونکہ اللہ تَعَالٰی کسی پر ایک ذرہ کے برابر ظلم نہیں کرتا ہے لہٰذا ہر انسان کو ایک جیسا عذاب نہیں ہوگابلکہ گناہوں کی مقدار کے مطابق سزا ملے گی مگر جہنم کا سب سے معمولی عذاب بھی اگر دنیا پر پیش کردیا جائے تو اس کی حدت سے ساری دنیا جل کر بھسم ہوجائے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ جہنم کا معمولی عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس کی گرمی سے اس کا دماغ کھولتاہوگا۔(2)
	اس معمولی عذاب سے اس بڑے عذاب کا اندازہ لگاؤ! اگر تمہیں آگ کے جلانے میں شبہہ ہو تواپنی انگلی اس دنیا کی آگ میں ڈال کر دیکھو تو تمہیں پتہ چل جائے گا، اگرچہ اس دنیاوی آگ کو جہنم کی آگ سے کوئی نسبت نہیں ہے لیکن سوچو تو، جب یہ آگ دنیا کے سخت ترین عذابوں میں شمار ہوتی ہے تو اس آگ کا کیا عالم ہوگا! اگر جہنمی وہاں اس دنیاوی آگ کو پالیں تو خوشی سے دوڑتے ہوئے اس میں گھس جائیں ، (اسی میں اپنی نجات سمجھیں )۔
آتشِ دوزخ اور دنیاوی آگ  :
	اسی لئے بعض احادیث میں ہے کہ جہنم کی آگ کو ستر مرتبہ رحمت کے پانی سے دھو کر دنیا میں لوگوں کے استعمال کے لئے بھیجا گیا ہے(3)بلکہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے حکم دیا کہ جہنم میں آگ بھڑکائی جائے،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…مسلم ،کتاب الجنۃ، باب مافی شدۃ حرنارجہنم۔۔۔الخ، ص۱۵۲۳، الحدیث ۳۱۔ ( ۲۸۴۴)
2…ترمذی ،کتاب صفۃ جہنم،  باب۱۲،۴/۲۷۱، الحدیث۲۶۱۳
3…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۳۸۷ و صحیح ابن حبان، باب صفۃ الناروأہلہا،۶/۲۷۶،الجزء التاسع، الحدیث۷۴۲۰