کمریں شکستہ، ہڈیاں ریزہ ریزہ، کان بہرے، چمڑہ چیتھڑوں کی طرح پارہ پارہ، ہاتھ گردنوں کے پیچھے بندھے ہوئے یعنی شکن کی ہوئی پیشانی اور پاؤں یکجا، منہ کے بل آگ پرچلتے ہوئے،اپنی پلکوں سے گرم لوہا روندتے ہوئے،ان کے تمام اعضائے بدن میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی،جہنم کے سانپ اور بچھوان کے جسم پر چمٹے ہوئے ہوں گے تو یہ مناظر دیکھ کر تمہاری کیا حالت ہوگی!
اب ذرا ان کے ہولناک عذاب کی تفصیل پر غور کرو اور جہنم کی وادیوں اور گھاٹیوں کے سلسلہ میں تامل کرو۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جہنم میں ستر ہزار وادیاں ہیں ، ہر وادی میں ستر ہزار گھاٹیاں ہیں اور ہر گھاٹی میں ستر ہزار سانپ اور ستر ہزار بچھو ہیں ، کافروں اور منافقوں کو ان تمام جگہوں ہی میں جانا ہوگا۔(1)
رِیا کار کا عذاب:
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: وادیٔ حزن یا حزن کی گھاٹی سے پناہ مانگو!پوچھا گیا :حضور وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ جہنم کی ایک ایسی وادی ہے جس سے ہر روز جہنم بھی ستر مرتبہ پناہ مانگتا ہے، یہ وادی اللہ تَعَالٰی نے ریاکار قاریوں کے لئے تیار کی ہے۔(2)
یہ جہنم کی وسعت، اس کی وادیوں کی گھاٹیاں ، زندگی کے نشیب و فراز اور خواہشاتِ نفسانی کی تعداد کے برابر ہیں اور جہنم کے دروازے انسانی جسم کے ان اعضاء کی تعداد کے برابر ہے جن سے انسان جرائم کا ارتکاب کرتا ہے، وہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں ، اوپر والا جَہَنَّم ، پھر سَقَر، پھر لَظٰی، پھرحُطَمَہ ، پھرسَعِیْر، پھر جَحِیْم اور سب سے نیچے ہَاوِیَہ ہے، ذرا ہاویہ کی گہرائی کاتصور کرو، جس قدر انسان کی شہواتِ نفسانی گہری ہوں گی،اسی قدر اسے ہاویہ کی گہرائی میں ٹھکانا ملے گا اور جیسے انسان کی ہر امید ایک دوسری بڑی امید پر ختم ہوتی اسی طرح ہاویہ کی ہر گہرائی دوسری گہرائی پرجاکر رکتی ہے۔
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک دھماکہ سنا حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا: ستر سال پیشتر جہنم کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معرفۃ الصحابۃ، باب السین، سفیان بن مجیب، ۲/۵۰۳، الحدیث۳۵۲۴
2…کنزالعمال،کتاب العلم، باب فی فضلہ۔۔۔الخ، ۵/۱۲۰،الجزء العاشر، الحدیث۲۹۴۱۵