Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
278 - 676
 منتشر کریں گے اور جہنم انہیں جمع کرے گا، وہ ہلاکت کے متمنی ہوں گے مگر انہیں موت نہیں آئے گی، ان کے پاؤں پیشانیوں سے بندھے ہوں گے اور ان کے چہرے گناہوں کی سیاہی سے کالے ہوں گے،وہ ہر چہار سو پکارتے پھریں گے: اے مالک! ہمارے لئے سزا کا وعدہ پورا ہوچکا۔ اے مالک! لوہا ہمیں فنا کردے گا ہماری کھالیں اترگئیں ۔ اے مالک! ہمیں اس سے نکال ہم دوبارہ برے اعمال نہیں کریں گے، عذاب کے فرشتے جواب میں کہیں گے: اس وقت تمہیں تمہارا تأسف کوئی ’’مأمن ‘‘ فراہم نہیں کرے گا اور تم اس ذلت کی جگہ سے کبھی نہیں نکل سکو گے، اسی میں رہو اور کوئی دوسری بات نہ کرو۔ اگر تم اس سے نکال بھی دیئے گئے تو تم وہی کچھ کروگے جو پہلے کیا کرتے تھے۔ 
	تب وہ ناامید ہوجائیں گے اور اپنے گناہوں پر انتہائی پریشانی کا اِظہار کریں گے مگر انہیں ندامت نہیں بچائے گی اور نہ ہی ان کا عذاب ’’ افسوس‘‘ دور کرس کے گا بلکہ وہ باندھ کر منہ کے بل نیچے ڈال دیئے جائیں گے اور ان کے اوپر نیچے دائیں بائیں آگ ہوگی اور وہ سراپا غرقِ آتش ہوں گے، ان کا کھانا پینا، بستر، لباس سب کچھ آگ کا ہوگا اور وہ آگ کے شعلوں میں لپٹے ہوں گے، جہنم کے قطران کا لباس اور لوہے کے ڈنڈے ان کی سزا کے لئے ہوں گے اور زنجیروں کی گراں باری تنگی کی وجہ سے آواز پیدا کررہی ہوگی، وہ جہنم کی گہرائیوں میں شکست خوردگی کے ساتھ سرگرداں ہوں گے اور اس کی آگ میں سخت پریشان ہوں گے، آگ انہیں ایسا اُبال دے گی جیسے ہانڈیوں میں ابال آتا ہے اور وہ گریہ وزاری کریں گے، موت کو بلائیں گے، جونہی وہ ہلاکت کی تمنا کریں گے، ان کے سروں پر جہنم کا کھولتا پانی انڈیلا جائے گا جس سے ان کی آنتیں اور چمڑا گل جائے گااور ان کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے جن سے ان کی پیشانیوں کو توڑا جائے گا، ان کے منہ سے پیپ بہنے لگے گی اورپیاس سے ان کے جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، ان کی آنکھوں کی پتلیاں ان کے رخساروں پر بہیں گی جس سے ان کے رخساروں کا گوشت ادھڑ جائے گا اور جب ان کا چمڑہ گل جائے گا تو دوسرا چمڑہ پیدا ہوجائے گا، ان کی ہڈیاں گوشت سے خالی ہونگی، ان کی روح کا رشتہ رگوں سے قائم ہوگا، جوجسم سے لپٹی ہوئی ہوں گی وہ آگ کی گرمی سے پھولی ہوں گی اور وہ اس وقت موت کی تمنا کریں گے مگر انہیں موت نہیں آئے گی۔
	اگر تم انہیں اس حالت میں دیکھو تو نظر آئے گا کہ ان کی شکلیں بہت زیادہ سیاہ ہیں ، آنکھیں اندھی، زبانیں گونگی،