جیسے جانور کی ٹانگ پر نقطہ ہوتا ہے۔(1)
اے فانی دنیا کے دھندوں میں مگن اور فریب خوردہ غافل انسان! اس دارِ فانی میں غورو فکر نہ کر بلکہ اس منزل کی فکر کر جس کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ تمام انسانوں کا پڑاؤ ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
اور تم میں سے ہر ایک اس پر گزرنے والا ہے تیرے رب کا حتمی وعدہ یہ ہے پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گرا ہوا چھوڑ یں گے ۔(2)
وہاں پر تیرا اترنا یقینی اور تیری نجات مشکوک ہے لہٰذا دل کو اس جگہ سے خوف زدہ کر شاید کہ تو اس طرح نجات کا راستہ پالے اور مخلوقات کے حالات کے متعلق سوچ جب وہ قیامت کی سختیوں کے متعلق اندازے لگا رہے ہوں گے اور وہ اس دکھ اور دہشت میں مبتلا ہوں گے اور نظریں اٹھا کر اپنے نامۂ اعمال کی حقیقت کے اظہار کا انتظار کر رہے ہوں گے اور کسی شفاعت کرنے والے کے منتظر ہوں گے کہ اچانک ایک ہولناک اندھیرا مجرموں کو گھیر لے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ اُن پر سایہ فگن ہوگی اور اس کی شدتِ غضب سے وہ مکروہ آوازیں ، چیخ اور پکار سنیں گے، اس دم وہ اپنی ہلاکت کا یقین کرلیں گے، لوگ گھٹنوں کے بل گرجائیں گے اُس وقت نیک لوگ بھی اپنے بُرے انجام سے خوفزدہ ہونگے اُس وقت عذاب کا فرشتہ پکارے گا کہ فلاں بن فلاں کہاں ہے جو خود کو دنیا میں طولِ اَمل سے تسلیاں دیا کرتا تھا اور اپنی زندگی کو برے اعمال میں تج دیا، پس عذاب کے فرشتے لوہے کے گرزلے کر بڑھیں گے اور اس کا بہت ہی بھیانک استقبال کریں گے یعنی اسے سخت عذاب کے لئے لے جائیں گے، اسے جہنم کے غار میں ڈال کرکہیں گے: اب عذاب کا مزا چکھو،تم تو بڑے بزرگ اور مہربان تھے۔
جہنم کے چند عذاب :
اور وہ اسے ایسی جگہ ٹھہرائیں گے جس میں کنارے تنگ، تاریک راستے اور پوشیدہ ہلاکتیں ہوں گی، مجرم اس میں دائماًرہے گا اس میں آگ بھڑکائی جائے گی، ان کا مشروب گرم پانی اوران کا ٹھکانا جہنم ہوگا، عذاب کے فرشتے انہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی ،کتاب التفسیر، سورۃ الحج ، ۵/۱۱۵، الحدیث۳۱۷۰
2…ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گذر دوزخ پر نہ ہو تمہارے ربّ کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔(پ۱۶، مریم :۷۱،۷۲)