Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
275 - 676
باب 39
اعمال،میزان اور نارِ جہنم
	میزانِ عمل اور نامۂ اعمال کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے بارے میں غور کرتے رہناتمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ حساب کے بعد لوگوں کی تین جماعتیں ہوں گی: ایک جماعت وہ ہوگی جس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی، تب آگے سے ایک سیاہ گردن نمودار ہوگی جو انہیں اس طرح اُچک لے گی جیسے پرندہ دانے اچک لیتا ہے اور انہیں لپیٹ کر آگ میں ڈال دیگی اور آگ انہیں نگل لے گی، پھر پکار کرکہا جائے گا: ان کی بدبختی دوامی ہے اور ان کے لئے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے۔ دوسری جماعت وہ ہوگی جس کی کوئی برائی نہیں ہوگی، اس دن نداء آئے گی کہ ہر حال میں اللہ کی حمد کرنے والے کھڑے ہوجائیں ، وہ کھڑے ہوجائیں گے اور نہایت اطمینان سے جنت میں داخل ہوں گے پھر راتوں کو عبادت کرنے والوں ، تجارت اورخرید و فروخت کے باعث ذکرِ خدا سے نہ رکنے والوں کو اسی طرح جنت میں بھیجا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ان کے لئے دوامی سعادت ہے جس کے بعد کوئی دکھ تکلیف نہیں ہے۔ تیسری جماعت وہ ہوگی جن کے نامہ ہائے اعمال میں نیکیاں اور گناہ دونوں درج ہوں گے لیکن انہیں خبر نہیں ہوگی جب تک اللہ تَعَالٰی اپنی رحمت اور اپنے عذاب کا اظہار فرمائے۔ ان لوگوں کے نامۂ اعمال میں گناہ اور نیکیاں لپٹی ہوئی ہونگی ان کے اعمال میزان کئے جائیں گے اوران کی آنکھیں نامۂ اعمال کی طرف ہوں گی کہ کونسے ہاتھ میں آتا ہے اور میزان کا پلّہ کدھر جھکتا ہے اور یہ ایسی خوفناک حالت ہوگی جس سے لوگوں کے ہوش اڑجائیں گے۔
آخرت کی یاد میں حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا  کی اشکباری:
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہسے مروی ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی گود میں سر رکھا اور آپ کو اونگھ آگئی، حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا آخرت کو یاد کر کے روپڑیں اور ان کے آنسو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے چہرئہ انور پر گرے تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔ آپ نے فرمایا: عائشہ! کیوں روتی ہو؟ عرض کی: حضور! آخرت کو یاد کر کے روتی ہوں ، کیا لوگ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ آپ نے فرمایا: بخدا! تین جگہوں میں