لایغر نک من المرء قمیص رقعۃ اوازار فوق عظم الساق منہ رقعۃ
اوجبین لاح فیہ اثر قد خلعہ ارہ الدرھم تعرف حبہ او ورعہ
{1}…تجھے کسی کی پیوند لگی قمیص یا موٹی پنڈلی تک اٹھی ہوئی چادر (تہبند)دھوکہ میں نہ ڈالے۔
{2}…یا اس کی پیشانی پر نشانِ عبادت دھوکہ میں نہ ڈالے تم تو یہ دیکھو کہیں وہ مال و دولت سے محبت تونہیں کرتا۔
حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا وقت مرگ:
مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی موت کے وقت مسلمہ بن عبدالملک نے آکر کہا: امیر المومنین! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو پہلے حکمرانوں نے نہیں کیا۔ آپ اپنی اولاد کو تنگدست چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ حضرتِ عمر بن عبد العزیز کے تیرہ بچے تھے، آپ نے یہ سن کر فرمایا: مجھے اٹھا کر بٹھاؤ۔ جب آپ بیٹھ گئے تو فرمایا: تم نے یہ کہا ہے کہ میں نے ان کے لئے مال و دولت نہیں چھوڑی ہے۔ میں نے کبھی ان کا حق نہیں روکا اور نہ کبھی انہیں دوسروں کا حق دیا ہے، اگر یہ اطاعت گزار رہیں گے تو اللہ تَعَالٰی ان کی ضرورتیں پوری کرے گا، وہی نیکوں کا سرپرست ہے اور اگر یہ بدکار نکلے تو مجھے انکی کوئی پروا نہیں ہے۔
روایت ہے کہ حضرت محمد بن کعب القرظیرَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ کو کہیں سے بہت سی دولت مل گئی، ان سے کہا گیا کہ اپنی اولاد کے لئے کچھ جمع کردیجئے! آپ نے فرمایا کہ میں اسے اپنے لئے اللہ کے ہاں جمع کروں گا اور اپنے رب کو اپنی اولاد کے لئے چھوڑ جاؤں گا۔
مروی ہے کہ ایک شخص نے ابو عبدربہ سے کہا: اے برادر! اپنی اولاد کے لئے برائی نہیں بلکہ بھلائی چھوڑ کر جائیے تو انہوں نے اپنے مال سے ایک لاکھ درہم نکالے۔
حضرتِ یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ دو مصیبتیں ایسی ہیں کہ ان جیسی مصیبتیں اگلے پچھلے لوگوں نے نہیں سُنی ہیں ، وہ ہے موت کے وقت بندے کا مال پر افسوس، پوچھا گیا وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: اس سے تمام دولت چھن جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اسے تمام دولت کا حساب اللہ کو دینا پڑتا ہے۔
……٭…٭…٭……