تمام رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کردی اور ہاتھ اٹھا کر اللہ تَعَالٰی سے دعا مانگی کہ اے الٰہَ الْعالَمِین! قبل اس کے کہ میرے پاس آئندہ سال حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی ایسی ہی رقم آئے، مجھے دنیا سے اٹھا لے! چنانچہ وہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے وصال کے بعد سب سے پہلی زوجۂ محترمہ تھیں جنہوں نے سب سے پہلے انتقال فرمایا۔
حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: جس نے دولت کو عزت دی اللہ نے اسے ذلیل کیا۔ کہتے ہیں : جب روپیہ پیسہ بنتاہے تو سب سے پہلے شیطان انہیں اٹھا کر ماتھے سے لگا کر چومتا ہے اور کہتا ہے جس شخص نے تم سے محبت کی وہ یقینا میرا بندہ ہے۔
حضرتِ سمیط بن عجلان رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: روپیہ پیسہ منافقوں کی ایسی مہاریں ہیں جو انہیں جہنم میں لے جاتے ہیں۔
حضرتِ یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ روپیہ پیسہ بچھو ہیں ، اگر تمہیں اس کی کاٹ کا منتر نہ آتا ہو تو اسے ہاتھ نہ لگاؤ، اگر اس نے تجھے ڈنک مار دیا تو اس کا زہر تجھے ہلاک کردے گا، پوچھا گیا: اس کا منتر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حلال سے کمانا اور صحیح کام میں خرچ کردینا۔
حضرتِ علاء بن زیاد کہتے ہیں : میرے سامنے دنیا تمام زینتوں سے مزین ہوکر آئی تو میں نے کہا: میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، دنیا نے کہا: اگر تم میرے شر سے بچنا چاہتے ہو تو روپے پیسے سے دشمنی رکھو کیونکہ دولت اور روپے پیسے کو حاصل کرنا، دنیا کو حاصل کرنا ہے جو ان سے الگ تھلگ رہے وہ دنیا سے بچ جاتا ہے۔
اسی لئے کہا گیا ہے: ؎
انی وجدت فلا تظنوا غیرہ ان التورع عند ھذا الدرھم
فاذا قدرت علیہ ثم ترکتہ فاعلم بان تقاک تقوی المسلم
{1}…میں نے یہ راز پالیا ہے اور تم بھی سمجھ لو کہ دولت کو چھوڑ کر ہی تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔
{2}…جب تو دنیا پاکر اسے چھوڑ دے تو واقعی تو نے ایک مسلمان کا سا تقویٰ حاصل کیا ہے۔
ایک شاعر کہتا ہے: