فرمانِ نبوی ہے کہ دنیا، دنیا داروں کے لئے چھوڑدو، جس نے اپنی ضرورت سے زیادہ دنیا لے لی، اس نے بے خبری میں اپنے لئے ہلاکت لے لی۔ (1)
راہِ خدا میں خرچ ہونے والا مال باقی رہتا ہے:
فرمانِ نبوی ہے کہ انسان ’’ میرا مال میرا مال ‘‘ کرتا ہے مگر تمہارے مال سے وہ ہے جو تونے کھالیا وہ ختم ہوگیا اور جو پہن لیا وہ پرانا ہوگیا، جو راہِ خدا میں خرچ کیا وہی باقی رہا۔ (2)
ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں موت کو اچھا نہیں سمجھتا؟ آپ نے فرمایا: تیرے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: مال کو راہِ خدا میں خرچ کردو کیونکہ مومن کا دل اپنے مال کے ساتھ رہتا ہے اگر وہ مال کو رو کے رکھتا ہے تو اس کا دل مرنے پر تیار نہیں ہوتا اور اگر وہ مال کو آگے بھیج دیتا ہے (راہِ مولیٰ میں خرچ کردیتا ہے) تو اسے بھی وہاں جانے کی آرزو ہوتی ہے۔ (3)
فرمانِ نبوی ہے کہ انسان کے تین دوست ہیں :ایک اس کی موت تک ساتھ رہتا ہے، دوسرا قبر تک اور تیسرا قیامت تک ساتھ رہے گا، موت تک کا ساتھی اس کا مال ہے، قبرتک کا ساتھ دینے والا اس کا خاندان ہے اور قیامت تک ساتھ دینے والے اس کے اعمال ہیں ۔ (4)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے حواریوں نے آپ سے پوچھا :کیا وجہ ہے کہ آپ پانی پر چلتے ہیں اور ہم نہیں چل سکتے؟ آپ نے فرمایا: تم مال و دولت کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولے: اچھا سمجھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:مگر میرے نزدیک مٹی کا ڈھیلا اورروپیہ برابر ہے۔
گنہگار دولت مند پل صراط سے نہیں گزر س کے گا:
حضرتِ سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو لکھا کہ اے بھائی! خود کو اتنی دنیا جمع
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الاخلاق، باب الزھد، ۲/۷۹، الجزء الثالث ، الحدیث ۶۱۱۴
2…مسلم ،کتاب الزھد والرقائق، ص۱۵۸۲، الحدیث ۳۔ (۲۹۵۸)
3…الزھد لابن المبارک ، ص۱۲۴، الحدیث۶۴۳
4…المعجم الکبیر، ۷/۲۶۳، الحدیث ۷۰۷۵ ماخوذاً