Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
270 - 676
	مزید فرمایا:تمہیں کثرتِ مال کی طلب نے ہلاک کردیا۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے کہ جیسے پانی سبزیاں اُگاتا ہے اسی طرح مال اور عزت کی محبت انسان کے دل میں نفاق پیدا کرتے ہیں۔(2)
	فرمانِ نبوی ہے کہ دو خطرناک بھیڑیئے بکریوں کے احاطہ میں گھس کر اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا کسی مسلمان کے دین میں مال، عزت اور وجاہت کی تمنا نقصان کرتی ہے۔(3)
	فرمانِ نبوی ہے کہ زیادہ دولت مند ہلاک ہوگئے مگر جنہوں نے بندگانِ خدا پر بے اندازہ مال خرچ کیا (وہ ہلاکت سے محفوظ رہے) اور ایسے لوگ کم ہیں ،(4)
	 آپ سے پوچھا گیا آپ کی امت میں سب سے بُرے لوگ کون ہیں ؟ فرمایا: دولت مند!(5)
	فرمانِ نبوی ہے کہ عنقریب تمہارے بعد ایک قوم آنے والی ہے جو دنیا کی خوش رنگ نعمتیں کھائیں گے، خوش قدم گھوڑوں پر سوار ہوں گے، بہترین ، حسین و خوبرو عورتوں سے نکاح کریں گے، بہترین رنگوں والے کپڑے پہنیں گے، ان کے معمولی پیٹ کبھی نہیں بھریں گے، ان کے دل کثیر دولت پر بھی قناعت نہیں کریں گے، صبح و شام دنیا کو معبود سمجھ کر اس کی عبادت کریں گے، اسے اپنا رب سمجھیں گے، اسی کے کاموں میں مگن اور اسی کی پیروی میں گامزن رہیں گے۔ جو شخص ان لوگوں کے زمانہ کو پائے، اسے محمد بن عبداللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ عَنْہ) کی وصیت ہے کہ وہ انہیں سلام نہ کرے، بیماری میں ان کی عیادت نہ کرے، ان کے جنازوں میں شامل نہ ہو اور ان کے سرداروں کی عزت نہ کرے اور جس شخص نے ایسا کیا اس نے اسلام کو مٹانے میں ان سے تعاون کیا۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… ترجمۂکنزالایمان:تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے۔(پ۳۰، التکاثر:۱)
2…
3…المعجم الکبیر، ۱۹/۹۶ ، الحدیث ۱۸۹  
4…مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ، ۳/۱۸۰، الحدیث ۸۰۹۱ 
5…مسند البزار،۱۶/۲۴۳، الحدیث۹۴۱۵ و شعب الایمان، ۵/۳۳، الحدیث۵۶۶۹
6…المعجم الاوسط، ۲/۲۰، الحدیث ۲۳۵۱و تذکرۃ الموضوعات للفتنی،ص۱۷۴و اتحاف السادۃ المتقین،کتاب ذم البخل۔۔۔الخ ، ۹/۶۶۹