Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
268 - 676
 آگے پیچھے چل رہے ہوں گے اور لوگوں سے کہیں گے: یہ فلاں بن فلاں ہے، اللہ تَعَالٰی اس سے راضی ہوا اور اسے راضی کردیا، اسے سعادتِ ابدی میسر آگئی ہے اور اسے کبھی بھی شقاوت سے ہمکنار نہیں ہونا پڑے گا۔ کیا تو یہ مقام اِس مقام سے بلند نہیں سمجھتا جسے تورِیائ، تَصَنُّع، منافقت اور زیب و زینت سے لوگوں کے دلوں میں بناتا ہے۔ اگر تو اس بات کو اچھا سمجھتا ہے اور یقینا وہی مقامِ آخرت اچھا ہے، تو اخلاص اور اللہ تَعَالٰی کے حضور نیتِ صادق کے ساتھ حاضری دے، پھر تو یہ بلند مرتبہ حاصل کرلے گا۔
نامۂ اعمال کا برائیوں سے بھرا ہونا اور اس کا انجام:
	نعوذ بااللہ اگر ایسا نہ ہوا اور تیرے نامۂ اَعمال سے تمام برائیاں نکلیں جنہیں تو معمولی سمجھتا تھا حالانکہ اللہ تَعَالٰی کے نزدیک وہ بہت بڑی غلطیاں تھیں ، اسی وجہ سے تجھ پر اللہ تَعَالٰی کا عتاب ہو اور وہ فرمائے: اے بدترین انسان! تجھ پر میری لعنت ہو، میں تیری عبادت قبول نہیں کرتا، تو یہ آواز سنتے ہی تیرا چہرہ سیاہ ہوجائے گا، پھر اللہ تَعَالٰی کی ناراضگی کے سبب اللہ کے فرشتے تجھ پر ناراض ہوجائیں گے اور کہیں گے: تجھ پر ہماری اورتمام مخلوق کی طرف سے لعنت ہو، اس وقت عذاب کے فرشتے اپنی بھرپور بدمزاجی، بدخلقی اور وحشتناک شکلوں کے ساتھ رب تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے انتہائی غصہ میں تیری طرف بڑھیں اور تیری پیشانی کے بالوں کو پکڑ کر تجھے تمام لوگوں کے سامنے منہ کے بل گھسیٹیں ، لوگ تیرے چہرے کی سیاہی دیکھیں ، تیری رسوائی دیکھیں !ا ورتو ہلاکت کو پکارے اور فرشتے تجھے کہیں تو آج ایک ہلاکت کو نہیں بہت سی ہلاکتوں کو بُلا اور فرشتے پکار کر کہیں ، یہ فلاں بن فلاں ہے، اللہ تَعَالٰی نے آج اس کی رسوائیوں کا پردہ چاک کردیا ہے، اس کے برے اعمال کی وجہ سے اس پر لعنت کی ہے اور دائمی بدبختی اس کو نصیب ہوئی ہے اور یہ انجام بسا اوقات ایسے گناہوں کا ہوتا ہے جسے تونے لوگوں سے چھپ کر کیا ہو، ان سے شرمندگی یا اظہارِ تقویٰ کے طور پر تونے ایسا کیا ہو مگر اس سے بڑھ کر تیری بے وقوفی اور کیا ہوگی کہ تو نے چند آدمیوں کے ڈر سے صرف دنیاوی رسوائی سے بچتے ہوئے چھپ کر گناہ کیا مگر اس ’’عظیم رسوائی‘‘ سے جو ساری دنیا کے سامنے ہوگی اور اس میں اللہ تَعَالٰی کی ناراضگی، عذابِ الیم اور عذاب کے فرشتوں کا تجھے جہنم کی طرف گھسیٹنا اور دوسرے عذاب شامل ہونگے، تو نے بچنے کی کوئی تدبیر نہ کی۔ قیامت میں تیری یہی کیفیات ہوں گی مگر افسوس کہ تجھے پیش آنے والے خطرات کا ذرہ بھر احساس نہیں ہے۔