حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے تبسم فرمایا اس طرح کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔ حضرتِ عمررَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! حضور کس بات پر تبسم فرمارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میری امت کے دو آدمی اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، ان میں سے ایک کہے گا: ’’اِلٰہ َالْعَا َلمِیْن! مجھے اس بھائی سے انصاف دلائیے۔ ربّ تعالیٰ دوسرے آدمی سے فرمائے گا کہ اسے اس کا حق دو! وہ عرض کرے گا: ’’یا الٰہی میری نیکیوں میں کچھ باقی نہیں رہا ہے۔‘‘ اللہ تَعَالٰی انصاف چاہنے والے سے فرمائے گا: اب کیا کہتے ہو؟ وہ کہے گا:’’ اے اللہ! اس کے عوض میرے گناہوں کا بار اس پر کردیجئے!‘‘ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی چشمائے اطہر اشکبار ہوگئیں ، پھر فرمایا: بے شک یہ بہت شدید دن ہوگا، لوگ اپنے گناہ دوسروں پر ڈالنے کے خواہشمند ہوں گے۔ اللہ تَعَالٰی پہلے شخص سے فرمائے گا کہ نظر اٹھا کر جنت کودیکھو! وہ جنت کو دیکھ کر کہے گا: میں نے سونے چاندی کے اونچے اونچے محلات دیکھے ہیں جن میں موتی جڑے ہوئے ہیں ، یہ کونسے نبی، صدیق یا شہید کے لئے ہیں ؟ ربِّ ذوالجلال فرمائے گا:جو اس کی قیمت ادا کرے گا اسے دوں گا۔ وہ کہے گا: اے اللہ! ان کی قیمت کس کے پاس ہے؟ اللہ تَعَالٰی فرمائے گا:’’ تیرے پاس ان کی قیمت ہے اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے اس بھائی کو معاف کردے‘‘ چنانچہ وہ اسے معاف کردے گا اور رب تعالیٰ فرمائے گا: اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کردے۔ اس کے بعد حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِوَ سَلَّم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو !اور ایک دوسرے سے نیکی کرو! اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن مومنوں میں باہم صلح کرائے گا۔(1)
اس ارشاد میں یہ تاکید پائی جاتی ہے کہ انسان اپنے اخلاق بہتر بنائے، لوگوں سے نیکی کرے۔ اب اے انسان ذرا غور کر! اگر تیرا نامۂ اعمال اس دن مظالم سے پاک ہو یا اللہ تَعَالٰی تجھے اپنے لطف و کرم سے بخش دے اور تجھے سعادتِ ابدی کا یقین ہوجائے تو اللہ تَعَالٰی کی عدالت سے واپس لوٹتے ہوئے تجھے کتنی ’’خوشی اور مسرت‘‘ ہوگی، تیرے جسم پر رضائے الٰہی کا لباس ہوگا، تیرے لئے ابدی سعادت ہوگی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں حاصل ہوں گی، اس وقت تیرا دل خوشی و شادمانی سے اڑرہا ہوگا، تیرا چہرہ سفید و نورانی ہوگا اور چودہویں رات کے چاند کی طرح تاباں ، تو سر اٹھائے ہوئے فخر کے ساتھ لوگوں میں جائے گا، تیری پیٹھ گناہوں سے خالی ہوگی، جنت کی ہواؤں اور رضائے الٰہی کی ٹھنڈک سے تیری پیشانی چمک رہی ہوگی، ساری مخلوق کی نگاہیں تجھ پر جمی ہوں گی، وہ تیرے حسن و جمال پر رشک کریں گے، ملائکہ تیرے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک للحاکم ، کتاب الاھوال ، باب اذا لم یبق من الحسنات۔۔۔الخ ، ۵/۷۹۵،الحدیث ۸۷۵۸