اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوۡنَ ﴿۳۱﴾٪(1)
تو حضرتِ زبیررَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کی:یارسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ہم دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ جو زیادتیاں کرتے ہیں وہ لوٹائی جائیں گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں !تاکہ ہر مظلوم کو اس کا حق دلایا جائے۔ حضرتِ زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا:’’ بخدا! یہ بات بہت عظیم ہے۔‘‘(2)ایسا عظیم دن جس میں کسی قدم کو نہیں بخشا جائے گا اور نہ ہی کسی تھپڑ سے درگزر کیا جائے گاتا آنکہ ہر مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلایا جائے گا۔
حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ، غبار آلود، خالی ہاتھ اٹھائے گا، پھر اللہ تَعَالٰی فرمائے گا (اور یہ آواز قریب و دور یکساں سنی جائے گی) کہ میں بادشاہ ہوں ، ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے والا ہوں ،کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں بغیر بدلہ دیئے نہ جائے گا۔ ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کیا: حضور بدلہ کیسے دیا جائیگالوگ تو برہنہ اور خالی ہاتھ ہوں گے! آپ نے فرمایا: نیکیوں اور گناہوں کے ساتھ بدلے دیئے اور لئے جائیں گے(3) لہٰذا اللہ سے ڈرو! لوگوں کے مال چھین کر، ان کی عزتیں پامال کر کے، ان کے دل دُکھا کے اور ان سے بُرا سلوک کر کے ان پر ظلم نہ کرو کیونکہ جو گناہ بندے اور خدا تعالیٰ کے درمیان ہیں وہ بہت جلد معاف کردیئے جائیں گے۔
جو شخص گناہ اور لوگوں سے زیادتیاں کر کے تائب ہوچکا ہو اسے چاہئے کہ وہ نیکیوں میں دل لگائے اور ان کو یومِ قیامت کے لئے ذخیرہ بنائے، مزیدبرآں مکمل اخلاص سے ایسی نیکیاں کرے جو اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی نہ جانتا ہو، ممکن ہے اسی کے طفیل اللہ تَعَالٰی اسے اپنا مقرب بنالے اور ان محبوب مومنوں کی جماعت میں اسے شامل فرمالے جسے وہ باوجود زیادتیوں کے اپنے لطف و کرم سے بخش دے گا۔
معافی کا انعام:
حضرتِ اَنَسرَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے، پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔(پ۲۳،الزمر:۳۰،۳۱)
2…مسند احمد، مسند الزبیر بن العوام، ۱/۳۵۳، الحدیث ۱۴۳۴
3…مسند احمد، مسند المکیین، حدیث عبداللہ بن انیس،۵/۴۲۹، الحدیث ۱۶۰۴۲ عن عبداللہ بن انیس