باب37
مخلوق کے فیصلے
مفلس کون ہے؟
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جانتے ہو مفلس کون ہے؟ ہم نے کہا: مفلس وہ ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ اور مال و منال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا: نہیں ، میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ کا ثواب لئے ہوئے آئے گا مگر اس نے کسی کو گالی، کسی کی غیبت، کسی کو ناحق قتل، کسی پر ظلم اور کسی کا مال کھایا ہوگا، اس کی تمام نیکیاں ان لوگوں میں تقسیم کردی جائیں گی، جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ (1)
اے انسان! ذرا سوچ! اس دن تیری کیا حالت ہوگی! تیرے پاس کوئی ایسی نیکی نہیں ہے جسے تو نے ریا اور شیطان کے وسوسوں سے پاک ہوکر کیا ہوگا، اگر تو نے طویل مدت میں ایک خالص نیکی حاصل کرلی ہے تو وہ بھی قیامت میں تیرے دشمن لیجائیں گے شاید تو نے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے دیکھا ہوگا کہ اگرچہ تو ساری رات عبادت میں اور تمام دن روزوں میں گزارتا ہے مگر تیری زبان مسلمانوں کی غیبت سے نہیں رکتی اور تیری نیکیاں بربادہوجاتی ہیں ، دیگر برائیاں جیسے حرام کی چیزیں کھانا، مال مشکوک ہضم کر جانا اور مکمل طور پر عبادتِ الٰہی نہ کر سکنے کی کوتاہی سے تو کیسے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ جبکہ اس دن ہر بے سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔
حضرتِ ابوذررَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے دو بکریوں کو آپس میں سینگ مارتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: ابو ذر! جانتے ہو یہ ایسا کیوں کررہی ہیں ؟ میں نے کہا: نہیں ۔ آپ نے فرمایا: لیکن اللہ تَعَالٰی جانتا ہے کہ وہ کیوں ایک دوسرے کو سینگ ماررہی ہیں اور وہ قیامت کے دن ان کا فیصلہ فرمائے گا۔(2)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قرآنِ کریم کی آیت:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند احمد ، مسند ابی ہریرۃ ، ۳/۱۶۹، الحدیث ۸۰۳۵
2…مسند احمد، مسند الانصار، حدیث ابی ذرالغفاری ، ۸/۱۰۰، الحدیث ۲۱۴۹۴