اے ناتواں انسان! ذرا قیامت کے روز کے پسینہ اور دکھ درد کو یاد کر اور سوچ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کہیں گے: اے اللہ! ہمیں اس مصیبت سے نجات دے اگرچہ تو ہمیں جہنم بھیج دے اور تو بھی انہی میں سے ایک ہوگا اور تجھے معلوم نہیں کہ تو کہاں تک پسینہ میں غرق ہوگا۔
ہر وہ انسان جس کا حج، جہاد، روزہ، نماز، کسی بھائی کی حاجت روائی، نیکی کے حکم اور برائیوں سے منع کرنے کے سلسلے میں پسینہ نہیں بہا ہے، قیامت کے دن شرمندگی اور خوف کی وجہ سے اس کا پسینہ بہے گا اور شدید رنج و اَلم ہوگا۔ (اس سے ایسا کام سرزد نہیں ہوا ہے)
اگر انسان جہالت اور فریب سے کنارہ کش ہوکر سوچے تو اسے معلوم ہوگا کہ عبادات میں سختی برداشت کرنا، قیامت کے طویل، سخت اور شدید دن کے انتظار اور پسینہ ( کے عذاب) سے بہت ہی آسان ہے۔
ایک لاکھ بندوں کی شفاعت کرنے والا
اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتا وی رضویہ شریف جلد 23 صفحہ 122 پر نقل فرماتے ہیں : حجرت اَبُو الموہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے تھے کی میں نے خواب میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا، حضورِ اقدسصَلَّی اللہ عَلَیْہِ سَلَّم نے مجھ سے فرمایا کہ قیامت کے دن تم ایک لاکھ بندوں کی شَفاعت کرو گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ !(صَلَّی اللہ عَلَیْہِ سَلَّم) میں کیسے اس قابل ہوا؟ ارشاد فرمایا : اس لیے کہ تم مجھ پر دُرود پڑھ کر اس کا ثواب مجھے نذرانہ کر دیتے ہو۔(الطبقات الکبری للشعرانی، ص۱۰۱)
ثواب نذر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پڑھتے وقت ثواب نذر کرنے کی دل میں نیت کرلے یا پڑھنے سے قبل یا بعد زبان سے بھی کہہ لے کہ اس دُرود شریف کا ثواب جناب ِ رسالت مآب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ سَلَّم کی نذر کرتا ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد