کی حدّت میں موجودہ کمی دور ہوجائے گی، سورج لوگوں کے سروں پر ایک کمان کے فاصلے کے برابر آجائے گا، اس وقت عرشِ الٰہی کے سایہ کے سوا کہیں سایہ نہیں ہوگا اور اس کے سایہ میں ابرار ہوں گے، سورج کی شدید تمازت کی وجہ سے ہر جاندار شدید دکھ اور بے پناہ مصیبت میں ہوگا، لوگ ایک دوسرے کو ہٹائیں گے تاکہ اژدہام کم ہو، اس وقت لوگ اللہ تَعَالٰی کے حضور حاضری کے خیال سے انتہائی شرمندہ اور ذلیل و رسوا ہوں گے اس وقت سورج کی گرمی، سانسوں کی گرمی، دلوں میں پشیمانی کی آگ اور زبردست خوف و ہراس طاری ہوگا اور ہر ایک بال سے پسینہ بہنا شروع ہوگا، یہاں تک کہ وہ قیامت کے میدان میں پانی کی طرح بھر جائے گا اور ان کے جسم بقدر گناہ پسینے میں ڈوبے ہوں گے بعض گھٹنوں تک، بعض کمر تک، بعض کانوں کی لَو تک اور بعض سراپا پسینہ میں غرق ہونگے۔
حضرتِ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے؛حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: لوگ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ بعض لوگ کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔(1)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: قیامت میں لوگوں کا پسینہ ستر ہاتھ اونچا ہوجائے گا اور ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا۔(2) اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
ایک اور روایت ہے کہ لوگ چالیس برس برابر آسمان کی جانب ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہیں گے اور شدید تکلیف کی وجہ سے پسینہ ان کے منہ تک پہنچا ہوا ہوگا۔(3)
حضرتِ عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے انتہائی قریب ہوگا، لوگوں کو شدید پسینہ آئے گا چنانچہ بعض لوگ ٹخنوں تک، بعض آدھی پنڈلی تک، بعض گھٹنوں تک، بعض رانوں تک، بعض کمر تک، بعض منہ تک (اور آپ نے ہاتھ کے اشارے سے بتلایا کہ انہیں پسینے کی لگام لگی ہوگی) اور بعض لوگ پسینہ میں ڈوب جائیں گے اور آپ نے سر کی طرف اشارہ فرمایا۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب التفسیر، باب یوم یقوم الناس۔۔۔الخ، ۳/۳۷۴، الحدیث ۴۹۳۸
2…بخاری،کتاب الرقاق، باب قول اللہ تعالٰی الا یظن۔۔۔الخ، ۴/۲۵۵، الحدیث ۶۵۳۲
3…المعجم الکبیر، ۹/۳۶۱، الحدیث ۹۷۶۴
4…مسند احمد ، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶/۱۴۶، الحدیث۱۷۴۴۴