گے۔ فرمانِ نبوی ہے کہ لوگ ننگے پیر ننگے بدن اٹھیں گے اور اپنے پسینے میں کان کی لوؤں تک غرق ہوں گے۔
ام المؤمنین حضرتِ سودہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے عرض کی: یارسول اللہ! کیسا عبرت ناک منظر ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کو ننگا دیکھیں گے! آپ نے فرمایا: کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔(1)
اس دن لوگ ننگے ہوں گے مگر کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں ہو گا کیونکہ لوگ مختلف صورتوں میں چل رہے ہوں گے، بعض لوگ پیٹ کے بل اور بعض منہ کے بل چلیں گے، انہیں کسی کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہیں ہوگا۔
قیامت کے دن کی تین حالتیں :
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ تین حالتوں میں ہوں گے: سوار، پیدل اور منہ کے بل چلنے والے، ایک شخص نے پوچھا کہ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ نے فرمایا: جو پیروں پر چلا سکتا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔(2)
آدمی کی طبیعت میں انکار کا مادہ بہت ہے جس چیز کو دیکھ نہیں پاتا ہے اس کا انکار کردیتا ہے چنانچہ اگر انسان سانپ کو پیٹ کے بل انتہائی برق رفتاری سے دوڑتا ہوا نہ دیکھتا تو یہ بات کبھی تسلیم نہ کرتا کہ پیٹ کے بل دوڑا اور چلا جاسکتا ہے، جنہوں نے پیروں پر کسی کو چلتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا ان کے لئے یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہوگی کہ انسان صرف پیروں پر چلتا ہے لہٰذا تم دنیاوی قیاس سے کام لیتے ہوئے اخروی عجائبات کا انکار نہ کرو، پس اس پر قیاس کر لوکہ اگر تم نے دنیا کے عجائبات نہ دیکھے ہوتے اور تمہیں ان کے متعلق بتایا جاتا تو تم تسلیم کرنے سے انکار کردیتے۔
ذرا اپنے دل میں یہ سوچو کہ جب تم ننگے، ذلیل و رسوا، حیران و پریشان اپنے متعلق اچھے یا بُرے فیصلے کے منتظر ہوگے تب تمہاری کیا حالت ہوگی۔
عرصۂ محشر کی کیفیت:
مخلوق کے اژدہام اور بِھیڑ بھاڑ کے متعلق ذرا خیال کرو کہ عرصۂ محشر میں زمین و آسمان کی تمام مخلوق فرشتے، جن، انسان، شیطان، جانور، درندے، پرندے سب جمع ہوں گے، پھر سورج نکلے گا، اس کی گرمی پہلے سے دُگنی ہوگی اور اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۲۴/۳۴، الحدیث ۹۱
2…ترمذی، کتاب التفسیر ، ۵/۹۶، الحدیث ۳۱۵۳