پر لوگ گروہ در گروہ لائے جائیں گے، بے شک ربِّ ذوالجلال عظیم قدرتوں کا مالک ہے جو روئے زمین کے گوشے گوشے سے تمام مخلوق کو ایک ہی میدان میں صور پھونکنے کے وقت جمع فرمائے گا، دل اس لائق ہیں کہ اس دن بیقرار ہوں اور آنکھیں خوفزدہ ہوں ۔
احوالِ قیامت کے بارے میں ارشاداتِ نبویہ:
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن لوگ ایک چٹیل میدان میں کھڑے کئے جائیں گے جو ہر قسم کے درختوں ، اونچے نیچے ٹیلوں اور عمارتوں سے پاک ہوگا۔(1)اور یہ زمین دنیا کی زمین جیسی نہیں ہوگی بلکہ یہ صرف نام کی ہی زمین ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ (2)
اس دن زمین اور آسمان دوسرے روپ میں بدل دئیے جائینگے۔
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ اس زمین میں کمی بیشی کی جائے گی، اس کے درخت، پہاڑ، وادیاں ، دریا سب ختم کردیئے جائیں گے اور اسے عکاظی چمڑے کی طرح کھینچا جائے گا (جس طرح کچے چمڑے کو کھینچتے ہیں ) وہ بالکل چٹیل میدان ہوگا جس پر نہ کسی کو قتل کیا گیا ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی گناہ ہوا ہوگا اور آسمانوں کے سورج، چاند اور ستارے ختم کردیئے جائیں گے۔
اے ناتواں انسان! ذرا سوچ تو سہی کہ اس دن کی ہولناکی اور شدت کتنی عظیم ہوگی جبکہ لوگ اس میدان میں جمع ہوں گے، تمام ستارے بکھر جائیں گے اور سورج و چاند کی روشنی زائل ہونے کی وجہ سے زمین اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اسی حالت میں آسمان اپنی اس تمام تر عظمت کے باوجود پھٹ جائے گا، وہ آسمان جس کا حجم پانسو برس کاسفر اور جس کے اطراف و اکناف پر ملائکہ تسبیح میں مشغول ہیں ، اس کے پھٹنے کی ہیبت ناک آواز تیری قوتِ سماعت پر زبردست خوف چھوڑ جائے گی اور آسمان زردی مائل پگھلی ہوئی چاندی کی طرح بہہ جائیگا اور سرخی مائل تیل جیسا ہو جائے گا، آسمان جھڑی ہوئی راکھ کی طرح پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوں گے اور برہنہ پا لوگ وہاں بکھرے ہوئے ہوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔الخ، باب فی البعث والنشور۔۔۔الخ، ص۱۵۰۰، الحدیث ۲۸۔ (۲۷۹۰)
2…ترجمۂکنزالایمان:جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان۔ (پ۱۳،ابراہیم:۴۸)