قدم پیچھے رکھے حکمِ خداوندی کے انتظار میں ہے۔ (1)
ہوشیار ہوجاؤ اور صور پھون کے جانے کے وقت سے ڈرو! اس وقت میں لوگوں کی ذلت اور رسوائی اور عاجزی کاتصور کروجبکہ دوسری مرتبہ صور پھونک کر انہیں کھڑا کیا جائے گا اور وہ اپنے متعلق اچھا یا بُرا فیصلہ سننے کے منتظر ہونگے اور اے انسان! تو بھی ان کی ذلت وپریشانی میں برابر کا شریک ہوگا بلکہ اگر تو دنیا میں آسودہ حال اور دولت مند ہے تو جان لے کہ اس دن دنیا کے بادشاہ تمام مخلوق سے زیادہ ذلیل اور حقیر ہوں گے اور وہ چیونٹیوں کی طرح پامال ہوں گے، اس وقت جنگلوں اور پہاڑوں سے درندے سر جھکائے قیامت کی ہیبت سے سہمے ہوئے اپنی ساری درندگی اور وحشت بھول کر لوگوں میں گُھل مل جائیں گے ،یہ درندے اپنے کسی گناہ کے سبب نہیں بلکہ صور کی خوفناک آواز کی شدت کی وجہ سے زندہ ہوجائیں گے اور انہیں لوگوں سے خوف اور وحشت تک محسوس نہیں ہوگی ،چنانچہ
فرمان الٰہی ہے :
وَ اِذَا الْوُحُوۡشُ حُشِرَتْ ۪ۙ﴿۵﴾ (2) اور جب وحشی جانور اٹھائے جائیں گے۔
پھر شیطان اور سخت نا فرمان اپنی نافرمانی اور سرکشی کے بعد اللہ تَعَالٰی کے حضور حاضر ہونے کے لئے انتہائی ذلت سے اس فرمانِ الٰہی کی تائید میں حاضر ہوں گے:
فَوَرَبِّکَ لَنَحْشُرَنَّہُمْ وَالشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّہُمْ حَوْلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾3))
پس قسم ہے تیرے رب کی ہم انہیں شیطانوں کیساتھ اکٹھا کریں گے پھر انہیں جہنم کے ارد گرد زانوؤں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔
ذرا سوچو! اس وقت تمہار ا کیا حال ہوگا!اور جب لوگ قبر سے اٹھانے کے بعد ننگے پیر اور ننگے بدن میدانِ قیامت میں جو ایک صاف شفاف زمین ہوگی جس میں کوئی کجی اور ٹیلہ نہیں ہوگا، آئیں گے، اس پر نہ کوئی ٹیلہ ہوگا کہ انسان اس کے پیچھے اوجھل ہوجائے اور نہ ہی کوئی گھاٹی ہوگی جس میں انسان چھپ جائے بلکہ وہ ہموار زمین ہوگی جس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الکتاب العظمۃ للاصبہانی، صفۃ اسرافیل۔۔۔الخ، ص۱۳۷، الحدیث ۳۸۸ و موسوعۃ ابن ابی الدنیا ،کتاب الاہوال، ۶/۱۵۶، الحدیث ۵۴
2…ترجمۂکنزالایمان: اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔ (پ۳۰،التکویر: ۵)
3…ترجمۂکنزالایمان:تو تمہارے رب کی قسم ہم انھیں اور شیطانوں سب کو گھیرلائیں گے اور انھیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے۔ (پ۱۶، مریم:۶۸)