Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
258 - 676
باب36
نفخِ صور، حشر اجساد و بعث بعد الموت

	فرمانِ نبوی ہے: میں کیسے سکون پاؤں جبکہ صاحب صور یعنی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام نے صور منہ میں لیا ہوا ہے، پیشانی جھکائی ہوئی ہے اور کان اللہ تَعَالٰی کے فرمان پر متوجہ کر رکھے ہیں کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم ملے اور وہ صور پھونکیں ۔ (1)
نفخ صور:
	حضرت مقاتل رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ صور ایک بوق یا قرنا کی طرح ہے جسے حضرتِ اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام بِگل کی طرح اپنے منہ میں لیے ہوئے ہیں ، اس صور کی گولائی آسمان و زمین کی چوڑائی (گولائی) کے برابر ہے، حضرتِ اسرافیل ٹکٹکی باندھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ انہیں کب صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے، جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو شدتِ اضطراب سے جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل کے سوا زمین و آسمان کے سب جاندار ہلاک ہوجائیں گے پھر عزرائیل کو حکم ہوگا اور وہ ان تینوں فرشتوں کی روح بھی قبض کرلے گا، اس کے بعد عزرائیل کو بھی فنا سے ہمکنار کردیا جائے گا یہاں تک کہ نفخِ صور کو چالیس سال گزر جائیں گے، تب اللہ تَعَالٰی اسرافیل کو زندہ کریگا اور وہ اُٹھ کر دوبارہ صور پھونکیں گے چنانچہ
	 فرمانِ الٰہی ہے:
ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿۶۸﴾ (2)پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا پس اچانک وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے اور دوبارہ زندہ ہونا دیکھ رہے ہوں گے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ جب سے اسرافیل کو پیدا کیا گیا ہے صور اس کے منہ میں ہے اور وہ ایک قدم آگے اور ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء فی شان الصور، ۴/۱۹۵، الحدیث ۲۴۳۹
2…ترجمۂکنزالایمان:پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا، جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے  ۔(پ۲۴،الزمر:۶۸)