Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
256 - 676
یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ ۚ (1)
یعنی ہم قیامت کے میدان میں تمام انسانوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
	مفسرین کرام کا امام کے تعین میں اختلاف ہے: حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَااور آپ کے رفقاء امام سے مراد نامۂ اَعمال لیتے ہیں ،چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیْ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ  (2)	اور جس شخص کو دائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی۔
	حضرت زید رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ امام سے مراد رتبہ کی کتابیں ہیں اور لوگوں کو’’ اے تورات والے! ‘‘ ، ’’اے انجیل والے!  ‘‘ اور ’’ اے قرآن والے! ‘‘  کہہ کر بلایا جائے گا ۔	
	    حضرتِ مجاہد رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ امام سے مراد نبی ہے۔ لوگوں کو یوں بلایا جائے گا: اے ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی اتباع کرنے والو آؤ! اے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی اتباع کرنے والو آؤ! اے عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی اتباع کرنے والو آؤ! اور اے محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی اتباع کرنے والو آؤ!
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ امام سے مراد امامِ عصر ہے جس کے روکنے سے وہ رک جاتے تھے اور جس کے حکم پر وہ عمل کرتے تھے۔
	حضرتِ ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے؛حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع فرمائے گاتو ہر خائن کو جھنڈا دیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی خیانت کا جھنڈا ہے۔(3)
	ترمذی وغیرہ میں حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:’’ لوگوں میں سے ایک آدمی کو بلایا جائے گا، اس کے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا، اس کے جسم کو ساٹھ ہاتھ لمبا کر کے اس کے سر پر چمکدار موتیوں کا تاج رکھا جائیگا، اس کا چہرہ انتہائی روشن ہوگا، پھر وہ اپنے دوستوں کی طرف جائے گا جو اسے دور سے دیکھ کر کہیں گے: اس کے مرتبہ میں اضافہ فرما اور ہمیں بھی ایسا ہی مقام عنایت فرما۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:جس دن ہم ہر جماعت کواس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔  (پ۱۵،بنی اسرائیل:۷۱)
2…ترجمۂکنزالایمان:تو وہ جو اپنا نامۂ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ (پ۲۹، الحاقۃ: ۱۹)
3…مسلم،کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر، ص ۹۵۵، الحدیث۹۔ (۱۷۳۵)