Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
254 - 676
باب35
اللہ کے سوا کسی اورکو اپنا ولی بنانا اور قیامت کا میدان
کفار سے میل ملاپ نہ رکھو:
	فرمانِ الٰہی ہے:  وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ (1)
	بعض مفسرین کا قول ہے: اہلِ لغت اس بات پر متفق ہیں کہ ’’رکون‘‘ مطلق میلان اور توجہ کانام ہے، چاہے وہ میلان معمولی ہو یا زیادہ۔ عبدالرحمن بن زید رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ یہاں رکون سے مراد چھپانا ہے یعنی ان کے کفر کا انکار نہ کرنا۔ عکرمہ کا قول ہے: رکون سے مراد ہے ان کفار سے نیکی نہ کرو، آیت کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ کفار اور بدکار مسلمانوں سے باہم میل ملاپ نہ رکھو۔
	حضرتِ نیشاپوری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں : محققین کا قول ہے کہ جس رکون سے منع کیا گیا ہے وہ ہے کفار کے کفر کو اچھا سمجھنا، ان کے طریق کار کو خوب جاننا اور دوسروں کے سامنے ان کی تعریف کرنا اور گمراہی کے کاموں میں ان کا شریکِ کار بننا ہے، ہاں اگر ان کے مظالم کے سد باب اور نفع اندوزی کی وجہ سے ان سے میل ملاپ بڑھاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میرا ضمیر یہ کہتا ہے کہ طلبِ معاش کے لئے ان سے میل ملاپ کی رخصت ہے مگر تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے بالکل علیحدگی کی جائے،کیا اللہ تَعَالٰی بندہ کی مشکلات میں اسے کافی نہیں ہے۔ 
	میں کہتا ہوں کہ امامِ نیشاپوری کا قول بالکل صحیح ہے۔ آج کے دور میں تو خصوصی طور پر اس بات کی ضرورت ہے کہ ان سے تعلقات نہ رکھے جائیں کیونکہ نیکی کا حکم کرنا اور برائیوں سے روکنا اس دھوکہ اور فریب کاری کے دور میں ناممکن ہے(2)اور جبکہ ان کا ظلم اس انداز پر آگیا ہے کہ ان سے باہم تعلق ہلاکت میں ڈال سکتا ہے توتمہارا اس شخص کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور ظالموں کی طرف نہ جُھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ (پ۱۲،ھود: ۱۱۳) 
2…قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں کہ پانچویں چھٹی صدی ہجری کی حالت یہ تھی۔ مزید دیکھئے مقدمہ تاریخ الخلفاء از شمس بریلوی