ان القناعۃ من یحلل بساحتہا لم یلق فی ظلہا ھما یورقہ
{1}…اے مال و دولت کو جمع کرنے والے! زمانہ ہر کسی کا مقدر دیکھتا ہے،تواس کے کس کس دروازے کو بند کرے گا؟
{2}…اس فکر میں کہ کس کس طرح امیدیں پوری ہوں گی، کیا اس کے ساتھ کوئی دشواری ہے یا آسانی پس تو اس کو چھوڑ دے گا۔
{3}…اے مال کے جمع کرنیوالے! تو نے دولت اکٹھی کرلی، مجھے یہ بتلا تو نے اسے خرچ کرنے کے لئے اپنے دن بھی اکٹھے کرلئے ہیں ؟ (کیا تجھے زندگی پر بھروسہ ہے)
{4}…دولت تیرے پاس وارثوں کا خزانہ ہے، راہ خدا میں خرچ کرنے والے مال کے سوا تیرا کوئی مال نہیں ہے۔
{5}…جب جوان اس بات پر اعتماد کرتا ہے کہ جس ذات نے تقسیمِ ارزاق کیا ہے اسے بھی رزق دے گا۔
{6}…تب اس کی عزت محفوظ ہوجاتی ہے، کبھی اس پر میل نہیں آتا ،اور نہ ہی اس کا چہرہ کبھی پرانا ہوتا ہے۔
{7}…جو شخص قناعت کو پالیتا ہے اس پرکبھی دکھ کا سایہ نہیں پڑتا۔
قرض کی ادائیگی
حُجَّۃُالْاِسلام حضرت سیِّدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْوَالِی کیمیائے سعادت میں نقل کرتے ہیں: جو شخص قرض لیتا ہےاور یہ نیت کرتا ہے کہ میں اچھی طرح ادا کر دوں گا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی حفاظت کیلئے چند فرشتے مقرر فرمادیتا ہے اور وہ دُعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے۔(انظر !اِتحاف السادۃ للزبیدی،ج۶،ص۴۰۹) اور اگر قرضدار قرض ادا کرسکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر اگر ایک گھری بھر بھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہو گا اور ظلم قرار پائے گا۔ خواہ روزے کی حالت میں ہو یا سو رہا ہو اس کے ذمہ گناہ لکھا جا رہے گا ( گویا ہر حال میں گناہ کا میٹر چلتا رہے گا) اور ہر صورت میں اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت پڑتی رہے گی ۔ یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے ، اگر اپنا سامان بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہےتب بھی کرنا پڑے گا، اگر ایسا نہیں کرے گا تو گنہگار ہو گا اور جب تک اسے راضی نہیں کرے گا اس ظلم کے جرم سے نجات نہیں پائے گا کیوں کہ اس کا یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہیں مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں۔(کیمائے سعادت،ج۱،ص۳۳۶)