Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
252 - 676
	حضرتِ ابو ذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  ایک مرتبہ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کی بیوی نے آکر کہا: تم ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہو اور گھر میں آٹے کی چٹکی اور پانی کا گھونٹ تک نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہیں پتہ نہیں ہمارے سامنے دشوار گزار گھاٹیاں ہیں ان سے وہی نجات پائے گا جس کا بوجھ ہلکا ہوگا۔ جب آپ کی بیوی نے یہ سنا تو چپ چاپ گھر میں واپس چلی گئیں ۔ 
	حضرتِ ذوالنون رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ بے صبر بھوکا کفر کے بہت قریب ہوتا ہے۔
	ایک دانا سے پوچھا گیا کہ تیری دولت کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: ظاہری صفائی، دل میں نیکی اور لوگوں سے ناامیدی۔
	روایت ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے بعض سابقہ آسمانی کتابوں میں فرمایا ہے: اے انسان! اگر تجھے ساری دنیا کی دولت مل جاتی تب بھی تجھے دو وقت کی روٹی ہی میسر آتی، اب جبکہ میں نے تجھے غذا دے دی ہے اور اس کا حساب اور کے ذمے لگا دیا ہے تو یہ میں نے تجھ پر احسان کیا ہے۔
	قناعت کے متعلق ایک شاعر نے کہا ہے:   ؎
اضرع الی اللہ لا تضرع الی الناس		واقنع بیاس فان العز فی الیاس
واستغن عن ذی قربی وذی رحم		ان الغنی من استغنی عن الناس
{1}…اللہ سے مانگ، لوگوں سے نہ مانگ، ان سے نااُمید ہو کر قناعت کو اپنا کیونکہ لوگوں سے نااُمید ہونے ہی میں عزت ہے۔
{2}…ہر عزیز اور یگانے سے بے پروا ہوجا، کیونکہ لوگوں سے بے نیازی ہی مالداری ہے، 
	ایک اور شاعر کہتا ہے:   ؎
یاجامعا  مانعا  و الدھر  یرمقہ			مقدر   ای     باب     منہ     یغلقہ
مفکرا     کیف      تاتیہ      منیتہ			اغادیا  ام   بہا   یسری   فتطرقہ
جمعت مالا فقل لی ھل جمعت لہ			یاجامع    المال     ایاما      تفرقہ
المال عندک مخزون لوارثہ			ماالمال  مالک  الا  یوم   تنفقہ
ارفہ ببال فتی یغدو علی ثقۃ			ان  الذی  قسم  الارزاق  یرزقہ
فالعرض منہ مصون لایدنسہ			والوجہ منہ جدید لیس یخلقہ