Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
251 - 676
 کرتی۔ افسوس! اے انسان! تجھے مال کی زیادتی کوئی فائدہ نہیں دے گی جب کہ تیری عمر برابر کم ہوتی جا رہی ہے۔
غنا کیا ہے؟
	ایک دانا سے غنا کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ قلیل اُمیدیں اور معمولی رزق پر راضی رہنا۔
	روایت ہے کہ حضرتِ ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ خراسان کے امراء میں سے تھے، ایک مرتبہ وہ محل سے باہر نکلے تو انہیں محل کے قریب ایک آدمی نظر آیا جس کے ہاتھ میں ایک روٹی تھی جسے کھا کر وہ سوگیا، انہوں نے اپنے ایک غلام سے کہا: جب یہ شخص بیدار ہو تو اسے میرے پاس لانا، چنانچہ اس کے بیدار ہونے کے بعد اسے لایا گیا تو انہوں نے پوچھا: اے جوان! تو بھوکاتھا اور ایک روٹی سے سیر ہو گیا؟ اس شخص نے کہا: ہاں ! پھر پوچھا: تمہیں نیند خوب آئی؟ وہ بولا: ہاں ! آپ نے دل میں سوچا میں آئندہ دنیا کے حصول میں سرگرداں نہیں پھروں گا، نفسِ انسانی تو ایک روٹی پر بھی قناعت کرلیتا ہے۔
	ایک شخص نے عامر بن عبدالقیس رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کو اس حالت میں دیکھا کہ وہ نمک کے ساتھ ساگ کھا رہے تھے۔ اس شخص نے کہا: اے بندئہ خدا! کیا تو اتنی سی چیز پر راضی ہے؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں بتلاؤں ، جو اتنی سی دنیا پر راضی ہوجاتا ہے اسے کس چیز کی خوشخبری ملتی ہے؟ پھر فرمایا:’’ جو دنیا پر راضی ہوجاتا ہے اسے آخرت نہیں ملتی اور جو دنیا سے ترکِ تعلق کر لیتا ہے اسے آخرت ملتی ہے۔‘‘
	حضرتِ محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ خشک روٹی پانی میں بھگو کر نمک سے کھا لیتے اور فرماتے: جو دنیا میں اتنی مقدار پر راضی ہوجاتا ہے وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا۔
	حضرتِ حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے ایسے لوگوں پر لعنت کی ہے جو اس کے تقسیم کردہ رزق پر راضی نہیں ہوئے،پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَق (1)
اور آسمانوں میں تمہارا رزق ہے اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم وہ حق ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے تو آسمان اور زمین کے ربّ کی قسم بے شک یہ قرآن حق ہے۔ (پ۲۶،الذّٰریٰت:۲۲،۲۳)