مطابق ہی رزق دیا جاتا۔(1)
اللہ تَعَالٰی نے حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی کہ مجھے شکستہ دلوں کے یہاں تلاش کرنا، آپ نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں ؟ رب تعالیٰ نے فرمایا: وہ سچے فقراء ہیں ۔
فرمانِ نبوی ہے کہ راضی بہ رضا فقیر سے زیادہ کوئی فضیلت والا نہیں ہے۔ (2)
فرمانِ نبوی ہے کہ اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا کہ مخلوق میں میرے دوست کہاں ہیں ؟ فرشتے پوچھیں گے یا اللہ! وہ کون ہیں ؟ رب تعالیٰ فرمائے گا: وہ مسلمان فقراء ہیں جو میری عطا پر قانع تھے اور میری رضا پر راضی تھے، انہیں جنت میں داخل کرو! چنانچہ لوگ ابھی اپنے حساب میں سرگرداں ہوں گے کہ وہ لوگ جنت میں کھا پی رہے ہوں گے۔(3)
یہ تو قناعت گزیں اور اللہ کی رضا پر راضی ہونے والوں کا تذکرہ ہے، ان شاء اللہ عنقریب زاہدوں کا ذکر بھی ان کے فضائل میں آئے گا۔
قناعت اور رضائے الٰہی:
’’قناعت‘‘ اور’’ رضا‘‘ کے متعلق بہت سی اَحادیث وارد ہوئی ہیں ، یہ بات خوب ذہن نشین کرلیں کہ قناعت کی ضد ’’حرص و طمع‘‘ ہے۔
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے کہ طمع، تنگدستی اور قناعت مالداری ہے جو لوگوں سے طمع نہیں رکھتا اور قناعت کرلیتا ہے وہ لوگوں سے بے پروا کردیا جاتا ہے۔
حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہر روز ایک فرشتہ عرش سے منادی کرتا ہے، اے انسان! گمراہ کرنے والے زیادہ مال سے کفایت کرنے والا تھوڑا مال بہتر ہے۔
حضرتِ ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ ہر انسان کی عقل میں کمزوری ہوتی ہے، جب اس کے پاس مال و دولت زیادہ آنے لگتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے مگر رات دن کی گردش جو اس کی عمر کم کررہی ہے، اسے غمزدہ نہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب القناعۃ ، ۴/۴۴۲، الحدیث ۴۱۴۰
2…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۳۶۸ و المغنی عن حمل الاسفار للعراقی، ۲/۱۰۹۰، الحدیث ۳۹۳۷
3…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۳۶۸