ایک شخص حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کی خدمت میں دس ہزار درہم لایا اور بڑی عاجزی سے انہیں قبول کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے انکار کردیا اور فرمایا: کیا تم دس ہزار درہم کے بدلے فقراء کے دفتر سے میرا نام کاٹنا چاہتے ہو بخدا! میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔
فرمانِ نبوی ہے: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو اسلام پر چلا اور اس نے معمولی گزران پر قناعت کرلی۔ (1)
فرمانِ نبوی ہے: اے فقرائ! تم دل کی گہرائیوں سے اللہ کی رضا پر راضی رہو، تمہیں فقر کا ثواب ملے گا وگرنہ نہیں۔(2)
پہلا قانع اور دوسرا راضی بہ رضائے الٰہی ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حریص کو فقر کا ثواب نہیں ملے گا مگر بعض احادیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے فقر کا ثواب ملے گا۔ عنقریب ہم اس کی مکمل بحث کریں گے۔
شاید عدمِ رضا سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ تَعَالٰی کے اس سے مال روک لینے کو برا سمجھتا ہے اور بہت سے طالبِ دنیا ایسے ہیں جو دل میں کبھی بھی اللہ تَعَالٰی کا منکر ہو ناپسند نہیں کرتے لہٰذا ان کی طلب میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن اوَّل الذکر بات اعمال کو تباہ کردیتی ہے جس میں اللہ تَعَالٰی کے دولت نہ دینے کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔
حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک کلید ہوتی ہے اور جنت کی چابی فقراء اور مساکین کی محبت ہے ۔ اپنے صبر کی وجہ سے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں گے۔
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی کو وہ بندہ سب سے زیادہ محبوب ہے جو فقیر ہو، اللہ کی رضا پر راضی ہو اور اس کے عطا کردہ رزق پر قناعت کرے۔(3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے دعا مانگی: اے اللہ! محمد ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے گھرانے کی خوراک اندازے کے مطابق ہو(4)اور فرمایا: قیامت کے دن کوئی فقیر اور مالدار ایسا نہیں ہوگا جو یہ تمنا نہ کرے کہ مجھے دنیا میں خوراک کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی ، کتاب الزھد باب ماجاء فی الکفاف۔۔۔الخ ،۴/۱۵۶، الحدیث۲۳۵۶
2…فردوس الاخبار، ۲/۴۷۵، الحدیث ۸۲۴۲ وکنزالعمال، کتاب الزکاۃ،الباب الثالث فی فضل الفقر۔۔۔الخ، ۳/۲۰۷، الجزء السادس، الحدیث۱۶۶۵۱
3…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۳۶۸ وکنز العمال، قسم الاقوال،کتاب الاخلاق ،حرف القاف، القناعۃ و الاستغنائ۔۔۔الخ ،۲/۱۵۸، الجزء الثالث، الحدیث ۷۰۸۸و المعجم الکبیر للطبرانی ، ۱۸/۲۴۲، الحدیث۶۰۷
4…مسلم ،کتاب الزکاۃ، باب فی الکفاف والقناعۃ، ص ۵۲۴، الحدیث ۱۲۶۔ (۱۰۵۵)