Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
248 - 676
 باعزت اور مالدار سے زیادہ ذلیل کسی کو نہیں دیکھا۔
	ایک دانشمند کا قول ہے کہ انسان جتنا تنگدستی سے ڈرتا ہے، اگر اتنا جہنم سے ڈرتا تو دونوں سے نجات پالیتا اور جتنی اسے دولت سے محبت ہے اگر جنت سے اسے اتنی محبت ہوتی تو دونوں کو پالیتا جتنا ظاہر میں لوگوں سے ڈرتا ہے اگراتنا باطن میں اللہ تَعَالٰی سے ڈرتا تو دونوں جہانوں میں سعید شمار ہوتا۔
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا  کا قول ہے کہ جو مالدار کی عزت اور فقیر کی توہین کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔
	حضرتِ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بوسیدہ کپڑوں کی وجہ سے کسی کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ اس کا اور تمہارا رب ایک ہے۔
	حضرتِ یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ فقراء سے تمہاری محبت رسولوں کی صفات میں سے ایک صفت ہے، ان کی مجالس میں آنا نیکوں کی اور ان کی دوستی سے دور بھاگنا منافقوں کی علامت ہے۔
	بعض کتب سابقہ میں مرقوم تھا کہ اللہ تَعَالٰی نے اپنے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامپر وحی کی کہ میری دشمنی سے ڈرو، اگر میں نے تجھے دشمن بنالیا تو تو میری آنکھ سے گِر جائیگا اور میں تجھ پر مال و دولت کی بارش کروں گا (یعنی مال و دولت کی فراوانی اللہ تَعَالٰی کے یہاں بے قدری کی موجب ہے)۔
	حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے پاس حضرتِ معاویہ، ابن عامر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اور کچھ دوسرے لوگوں نے ایک لاکھ درہم بھیجے، آپ نے سب کو ایک ہی دن میں تقسیم کردیا حالانکہ آپ کی اوڑھنی پر پیوند لگے ہوئے تھے، آپ کی لونڈی نے کہا کہ آپ روزے سے ہیں اگر آپ مجھے ایک درہم دے دیتیں تو میں گوشت لے آتی اور آپ افطار کرتیں ، آپ نے یہ سن کر فرمایا: تم مجھے پہلے بتادیتیں تو میں ایک درہم تمہیں دے دیتی۔
حضرتِ عائشہ کو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی وصیت:
	حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا  کو وصیت فرمائی: اگر تم مجھ سے ملاقات کی خواہشمند ہو تو فقراء جیسی زندگی بسر کرنا، دولت مندوں کی محفلوں سے علیٰحدہ رہنا اور اوڑھنی کو پیوند لگائے بغیر نہ اتارنا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترمذی، کتاب اللباس، باب ماجاء فی ترقیع الثوب ،۳/۳۰۲ ، الحدیث ۱۷۸۷