حضرتِ سعید بن عامر کی گریہ وزاری کا باعث:
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ سعید بن عامر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے، حضرت سعید اپنے گھر میں اِنتہائی غمزدہ حالت میں داخل ہوئے، ان کی بیوی نے پوچھا: کوئی خاص بات ہوگئی ہے؟ بولے: بہت اہم بات ہوگئی ہے، پھر فرمایا:مجھے کوئی پرانا دوپٹہ دے دو ،پھراسے پھاڑ کر اس کے ٹکڑے کیے اور دیناروں کی پوٹلیاں بنا کر تقسیم کر دیں (1) اور نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور صبح تک رورو کر عبادت کرتے رہے پھر فرمایا: میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنا ہے : میری امت کے فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اگر کوئی مالدار آدمی ان کی جماعت میں شامل ہوگا تو اسے ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیا جائے گا۔(2)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ تین آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے: وہ شخص جس نے کپڑے دھونے کا ارادہ کیا مگر اس کے دوسرے پرانے کپڑے نہیں تھے جنہیں پہن کر وہ کپڑے دھولے۔ جوشخص چولہے پر دو دو ہانڈیاں نہیں چڑھاتا اور جس کو پینے کی دعوت دے کر اس سے یہ نہ پوچھا: تم کیا پیو گے؟(3)
حضرتِ سفیان ثوری کو فقراء سے بے پایاں محبت تھی:
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کی محفل میں ایک فقیر آیا تو آپ نے اسے فرمایا: آگے آجاؤ! اگرتم مالدار ہوتے تو میں تمہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہ دیتا، ان کی فقراء سے بے پایاں محبت دیکھ کر ان کے مالدار دوست یہ تمنا کرتے کہ کاش ہم بھی فقیر ہوتے۔
حضرت مؤمل رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ کی مجلس میں فقیر سے زیادہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہ عبارت ’’مجھے کوئی پرانا دوپٹہ ……پوٹلیاں بنا کر تقسیم کر دیں ‘‘ یہاں محذوف تھی شاید کاتب سے رہ گئی ہوگی، ہم نے عربی متن دیکھ کر اس کا ترجمہ یہاں شامل کردیا ہے۔ علمیہ
2…ترمذی،کتاب الزھد، باب ماجاء فی ان فقراء۔۔۔الخ، ۴/۱۵۸، الحدیث ۲۳۶۱وکنز العمال ، قسم الاقوال، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث فی فضل الفقر۔۔۔الخ۳/۲۰۳، الجزء الخامس،الحدیث۱۶۶۲۱
3…کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ،حرف الزا، الزھد، ۲/۷۶، الجزء الثالث، الحدیث ۶۰۷۵