فرمائی۔ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے فرمایا: تشریف لائیے! آپ نے فرمایا: میرے ساتھ ایک اور شخص بھی ہے، پوچھا گیا:حضور! دوسرا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عمران! حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بولیں : ربِّذوالجلال کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں صرف ایک چادر سے تمام جسم چھپائے ہوئے ہوں ۔ آپ نے دستِ اقدس کے اشارے سے فرمایا: تم ایسے ایسے پردہ کرلو، انہوں نے عرض کیا :اس طرح میرا جسم تو ڈھک جاتا ہے مگر سرنہیں چھپتا، آپ نے ان کی طرف ایک پرانی چادر پھینکی اور فرمایا: تم اس سے سر ڈھانپ لو، اس کے بعد آپ گھر میں داخل ہوئے اور سلام کے بعد پوچھا: بیٹی کیسی ہو؟ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے عرض کیا: حضور مجھے دوہری تکلیف ہے، ایک بیماری کی تکلیف اور دوسرے بھوک کی تکلیف! میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے کھا کر بھوک مٹا سکوں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یہ سن کر اشکبار ہوگئے اور فرمایا: بیٹی گھبراؤ نہیں ، رب کی قسم! میرا رب کے یہاں تم سے زیادہ مرتبہ ہے مگر میں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا ہے، اگر میں اللہ تَعَالٰی سے مانگوں تو مجھے ضرور کھلائے مگر میں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہے پھر آپ نے حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:’’ خوش ہوجاؤ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو!‘‘ انہوں نے پوچھا: حضرتِ آسیہ اور مریم کہاں ہونگی؟ آپ نے فرمایا: آسیہ اپنے زمانے کی عورتوں کی اور تم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہو، تم جنت کے ایسے محلات میں رہو گی جس میں کوئی عیب، کوئی دکھ اورکوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ پھر فرمایا: اپنے چچازاد کے ساتھ خوش رہو، میں نے تمہاری شادی دنیا اور آخرت کے سردار کے ساتھ کی ہے۔(1)
روپیہ جمع کرنے والے پرچار مصیبتوں کا نزول:
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب لوگ فقراء سے دشمنی رکھیں ، دنیاوی شوکت و حشمت کا اظہار کریں اور روپیہ جمع کرنے پر حریص ہو جائیں تو اللہ تَعَالٰی ان پر چار مصیبتیں نازل فرماتا ہے قحط سالی، ظالم بادشاہ، خائن حاکم اور دشمنوں کی ہیبت۔(2)
حضرتِ ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک درہم والے سے دو درہم والے کا حساب زیادہ ہوگا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکل الاثار للطحاوی ، باب بیان ماروی عن رسول اللہ فی افضل بناتہ۔۔۔الخ،۱/۳۶، الجزء الاول، الحدیث ۱۰۱
2…المستدرک للحاکم ، کتاب الرقاق، باب الحسب المال۔۔۔الخ،۵/۴۶۳،الحدیث۷۹۹۳(العلماء مکان فقراء)
3…شعب الایمان ،الحادی والسبعون۔۔۔الخ، فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔الخ،۷/۳۷۷،الحدیث ۱۰۶۴۷(عن ابی ذر)