Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
245 - 676
	حضرتِ عبدالرحمن بن عوف سابقین اولین مسلمانوں میں سے تھے، حضور کے جانثاراور ان دس حضرات میں سے تھے جنہیں حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے جنت کی بشارت دی ہے(1) اور ان مالداروں میں سے تھے جن کے لئے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: مگر جس نے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا(2)انہیں بھی مالداری نے اتنی مصیبت میں مبتلا کردیا۔
	حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس مال و منالِ دنیا سے کچھ نہیں تھا، آپ نے فرمایا: اگر اس کا نور تمام دنیا والوں میں تقسیم کیا جائے تو پورا ہوجائیگا۔ (3)
جنت کے بادشاہ:
	نبی کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں کیا میں جنتی بادشاہوں کے متعلق تمہیں بتاؤں ؟ عرض کی گئی فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: ہر وہ شخص جسے کمزور و ناتواں سمجھا گیا، غبار آلود پریشان بالوں والا، وہ پھٹی پرانی چادروں والا، جسے کوئی خاطر میں نہیں لاتا ہے، اگروہ اللہ کی قسم کھالے تو اللہ تَعَالٰی اس کی قسم کوضرور پورا کرتا ہے۔(4)
حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا   کا عالم غربت:
	حضرتِ عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مجھ سے حسن ظن رکھتے تھے، ایک مرتبہ حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اے عمران! تمہارا میرے نزدیک ایک خاص مقام ہے، کیا تم میری بیٹی فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکی عیادت کو چلو گے؟ میں نے کہا:’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان! ضرور چلوں گا‘‘ چنانچہ ہم روانہ ہوگئے اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے دروازہ پر پہنچے، آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور سلام کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب عبدالرحمن۔۔۔الخ ،۵/۴۱۶،الحدیث ۳۷۶۸ 
2…مسلم،کتاب الزکاۃ، الترغیب فی الصدقۃ، ص۴۹۶، الحدیث۲۳۔ (۹۴)،۳۳۔ (۹۴) وعمدۃ القاری،کتاب الزکاۃ، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ،۶/۳۷۹، تحت الحدیث۱۴۱۵و لطائف المعارف لابن رجب،المجلس الثالث فیما یقوم مقام الحج۔۔۔الخ،ص۲۴۱
3…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۳۶۷ وتذکرۃ الموضوعات للفتنی، ص۱۷۸وشعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الإیمان، باب فی الزہد و قصر الأمل، ۷/۳۳۲، الحدیث۱۰۴۸۶
4…ابن ماجہ، کتاب الزھد ، باب من لایؤبہ بہ، ۴/۴۲۹، الحدیث ۴۱۱۵