Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
244 - 676
معذرت کرے گا جیسے دنیا میں ایک شخص دوسرے سے معذرت کرتا ہے اور اللہ تَعَالٰی فرمائے گا: مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں نے تجھ سے دنیا کو تیری بے قدری کی وجہ سے نہیں پھیرا تھا بلکہ اس عزت اور کرامت کے سبب جو میں نے تیرے لئے تیار کی تھی تجھے دنیا سے محروم رکھا ، اے میرے بندے! لوگوں کی ان جماعتوں میں جاؤ، جس کسی نے بھی میری رضا مندی کی خاطر تجھے کھلایا، پلایا، یا لباس پہنایا، اس کا ہاتھ پکڑلو! وہ تمہارا ہے۔ لوگ اس دن پسینہ میں غرق ہوں گے اور وہ صفوں کو چیرتا ہوا ان کوتلاش کر کے جنت میں لے جائے گا۔(1)
فقراء کے پاس دولت ہے:
	فرمانِ نبوی ہے کہ فقراء کو پہچانو اور ان سے بھلائی کرو، ان کے پاس دولت ہے۔ پوچھا گیا کہ حضور کونسی دولت ہے؟ آپ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا،  اللہ تَعَالٰی ان سے فرمائے گا جس نے تمہیں کھلایا پلایا ہو یا کپڑا پہنایا ہو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جاؤ۔(2)
	  فرمانِ نبوی ہے کہ جب میں (شبِ معراج) جنت میں گیا تو میں نے اپنے آگے حرکت کی آواز سنی، میں نے دیکھا تو وہ بلال تھے، (3)میں نے جنت کی بلندیوں پر دیکھا، وہاں مجھے اپنی امت کے فقراء اور ان کی اولادیں نظر آئیں ، میں نے نیچے دیکھا تو مالدارنظر آئے اورعورتیں کم تھیں ، میں نے سبب پوچھا تو بتلایا گیا کہ عورتوں کو سونے اورریشم نے جنت سے محروم کر دیا ہے اور مالداروں کو ان کے طویل حسابات نے اوپر نہیں جانے دیا۔(4) میں نے اپنے صحابہ کو تلاش کیا تو مجھے عبدالرحمن بن عوف نظر نہ آئے، کچھ دیر بعد وہ روتے ہوئے آئے، میں نے پوچھا: تم مجھ سے کیوں پیچھے رہ گئے؟ تو عبدالرحمن نے کہا: میں بہت دکھ جھیل کر آپ کی خدمت میں پہنچا ہوں ، میں تو سمجھ رہا تھا کہ شاید میں آپ کو نہیں دیکھ پاؤں گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر روح البیان ، الزخرف تحت الآیۃ :۴۵،۸/۳۷۵
2…تاریخِ مدینۃ دمشق، ۱۴/۹۹ 
3…مسلم،کتاب الفضائل، فضائل الصحبۃ، باب من فضائل ام سلیم۔۔۔الخ، ص۱۳۳۳، الحدیث ۲۴۵۷
4…کنز العمال ، قسم الاقوال،کتاب الفضائل، ذکر الصحبۃ۔۔۔الخ، ۶/۳۰۱، الجزء الحادی عشر، الحدیث۳۳۱۶۴ و المغنی عن حمل الاسفار للعراقی،۲/۱۰۸۷، الحدیث۳۹۳۷